ہارٹ آف ایشیا کے اختتام پر ‘مشترکہ بیان’ پر ہندوستانی مؤقف کی حمایت کا الزام
شیعیت نیوز : پاکستانی حکومت کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ہندوستان سے ’جامع دو طرفہ مذاکرات‘ کی حوصلہ افزائی کے باوجود سیاسی جماعتوں نے اس حوالے سے جاری ہونے والے حالیہ ‘مشترکہ بیان’ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
سیاسی جماعتوں کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان موجود تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر آنے کی خواہش کو خوش آمدید کہا گیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی وزیر خارجہ ششما سوراج اور وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والا مشترکہ بیان ہندوستان کے سابقہ مؤقف کی تائید کرتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما شیریں مزاری نے قومی اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بیان میں دوٹوک الفاظ میں ممبئی ٹرائل پر ہندوستانی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، تو سمجھوتہ ایکسپریس کے واقعے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے پاکستانی مؤقف کا کیا ہوا‘۔
انھوں نے ’مشترکہ‘ اور ’جامع‘ دو طرفہ بات چیت کے درمیان فرق کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک وہ جانتی ہیں ‘مشترکہ مذاکرات‘ کی اصطلاح بھی ہندوستان کی جانب سے بنائی گئی ہے جس کی جگہ اب نئی اصطلاح ’جامع مذاکرات‘ نے لے لی ہے۔
پی ٹی آئی کی رہنما نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ کیا دو طرفہ بات چیت کی بحالی کے معنی یہ لیے جائیں کہ پاکستان نے متعدد مسائل اور خاص طور پر مسئلہ کشمیر کو چھوڑنے کا ارادہ کرلیا ہے۔
انھوں نے جاری ہونے والے مشترکہ بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہاؤس کی کارروائی کے دوران وزیراعظم کو اس کی وضاحت ضرور کرنی چاہیے۔
اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا ماننا تھا کہ ایسے بیانات پر حکومت کو وضاحت دینی چاہیے کیونکہ مشترکہ بیان سے مذاکرات کے حوالے سے اصل بات کی وضاحت ظاہر نہیں ہورہی ہے۔
’جب پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا، تو ہندوستان کا کہنا تھا کہ یہ دو طرفہ مسئلہ ہے اس میں بین الاقوامی فورم استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب اس مسئلے پر دو طرفہ بات چیت کا آغاز کیا گیا تو ہندوستان نے دلیل دی کہ کمشیر اس کا اٹوٹ انگ ہے، تو کوئی اس ہاؤس کو یہ بتائے گا کہ حکومت اس حوالے سے ہندوستان سے کہاں تک بات کرنے جارہی ہے‘۔
مولانا کا کہنا تھا کہ جہاں تک مسئلہ کشمیر کا تعلق ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کوئی بھی پاکستان کو اس مسئلے کو بین الاقوامی طور پر اٹھانے سے نہیں روک سکتا۔
پی ٹی آئی کے رہنما شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ’ہمارے مطالبے کا انتظار کیے بغیر سرتاج عزیز کو یہاں خود آنا چاہیے اور ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے نتائج سے ہاؤس کو آگاہ کرنا چاہیے‘۔
اس موقع پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے وزیراعظم کی اسمبلی میں غیر حاضری کو نوٹس میں لاتے ہوئے اسے تنقید کا نشانہ بنایا اور اُس وقت تک صدرارتی بیان پر بحث کے آغاز سے انکار کردیا جب تک وزیراعظم نواز شریف ہال میں تشریف نہ لے آئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں کس سے خطاب کروں، وزارت کی خالی کرسیوں سے؟ میں نے اس بات کا فیصلہ کرلیا ہے کہ جب تک نواز شریف ہاؤس میں تشریف نہیں لے آتے میں صدارتی تقریر کے حوالے سے بحث کا آغاز نہیں کروں گا‘۔
بشکریہ :ڈان








