پاکستان میں سعودی عرب کی ایران مخالف سرگرمیاں

11 نومبر, 2015 00:00

یوروایشیا ریویو نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان کے امن انسٹی ٹیوٹ کے ماہرصفدرسیال کے ایک آرٹیکل کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ پاکستان میں سعودی عرب کے اقدامات کی ایک اصلی دلیل،خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔ جبکہ پاکستان نے ہمیشہ ایران اورسعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن قائم رکھنےکی کوشش کی ہے۔

۲۰۰۱ء سے پاکستان کے ایران کےساتھ بہت اچھے تعلقات قائم ہیں۔ اورپاکستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران یہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے تھے۔ سعودی عرب ان گہرے تعلقات پربہت ناراض تھا۔ لہذا اس نے نواز شریف کے برسراقتدارآنے کے بعد ان روابط کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی بنا پرسعودی عرب نے پاکستان کو۲۰۱۴ء میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد بھی دی تھی۔

اسی طرح سعودی عرب کی تجویزپرشام کے دہشتگردوں کے لیے اسلحہ اورجنگی سازوسامان بھیجنے کے لیےپاکستان کی حمایت کے بارے میں کئی دعوے کیے گئے تھے لیکن اسلام آؓباد نے ان تمام دعووں کو یکسرمسترد کردیا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے سعودی عرب میں اپنے ایک لاکھ فوجیوں کو بھیجنے کے دعویٰ کو بھی مسترد کردیا تھا۔

بعض افراد اس طرح کا اظہارکرنےکی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان،خطے میں سعودی پالیسیوں کا حامی ہے لیکن ان تمام ترافواہوں کے باوجود نواز شریف نے سب سے پہلے تو مشرق وسطیٰ کے حالات کے مقابلے میں مداخلت نہ کرنے کی سیاست کو ترک نہیں کیا اوردوسرا یہ کہ اس نے ایران کا دورہ کیا۔

دوسری جانب یمن پرسعودی عرب کے حملے کے بعد اس ملک کی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہے اوروہ یمن کے سلسلے میں پاکستان کی حمایت کی شدید ضرورت محسوس کررہا تھا لیکن پاکستان کے سیاسی اورفوجی عہدیداروں نے یمن میں کسی قسم کی فورسزنہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔

سعودی عرب نے پاکستان کے اس اقدام کو ایک قسم کی ایران کی حمایت قراردیا اوریوں وہ مزید ناراض ہوگیا۔

اس کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ اورشمالی آفریقہ کے حالات سے ہٹ کرایسے کئی اسباب موجود ہیں کہ جو پاکستان کے ایران اورسعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں اثرانداز ہوتے ہیں۔ مثال کے طورپر ایران اورچھ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے ایٹمی سمجھوتے کے بعد اس ملک پرمعاشی پابندیوں کی کمی کا باعث بنےگا کہ جوایران کو ایک مرتبہ پھربین الاقوامی اورعلاقائی تجارتی سسٹمز میں داخل ہونے میں مدد دے گا اوریوں جنوبی ایشیا اوروسطی ایشیا میں مزید اتحادووحدت کی فضا قائم ہوگی۔

8:33 صبح اپریل 25, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔