نیشنل ایکشن پلان کے بعد کوئٹہ میں 4دھماکے،18 افرادلقمہ اجل بن گئے

20 اکتوبر, 2015 00:00

نیشنل ایکشن پلان کے بعد کوئٹہ میں تین بم دھماکے اور ایک خود کش حملے میں 18افراد جاں بحق 54افراد زخمی ہوئے بس بم دھماکے نےسیکورٹی اقدامات کی قلعی کھول دی تفصیلات کے مطابق بلوچستان جو ڈیڑھ دہائی سے دہشت گردی کا شکار ہے ،ہزاروں کی تعداد میں افراد لقمہ اجل بنے اور ہزاروں زخمی ہوئے 16دسمبر 2014کو پشاور آرمی پبلک اسکول میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے نے جہاں ملکی سیاسی اور عسکری قیادت کو ایک پیج پر متحد کیا وہیں عوام نے بھی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سیاسی اور عسکری قیادت کے ہاتھ مضبوط کئے سانحہ پشاور کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدارآمد کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز نے ملک بھر میں آپریشن شروع کئے جس کے کافی بہتر نتائج برآمد بھی ہوئے ،بلوچستان میں بھی نیشنل ایکشن پلان پر عملدارآمد کرتے ہوئے جہاں کئی کامیابیاں حاصل ہوئیں وہیں نیشنل ایکشن پلان کے بعد کوئٹہ میں تین بڑے بم دھماکے بھی ہوئے پہلا دھماکہ 24د سمبر کو پرنس روڈ پر ہو ا بم سائیکل میں نصب تھا جس چار افرا جاں بحق 18زخمی ہوئے دوسرا دھماکہ قمبرانی روڈ پر رکشے میں ہوا جس کے نتیجے میں ایک ایف سی اہلکار سمیت تین افراد جاں بحق اور 13زخمی ہوئے جبکہ تیسرا بڑا دھماکہ گزشتہ شب دکانی بابا چوک کے قریب مسافر بس کی چھت پر ہوا جس میں 11 گیارہ افراد جاں بحق اور 23زخمی ہوئے جبکہ چاند رات کو ریلوے ہائوسنگ سوسائٹی میں چوکیدار نے خود کش حملہ آور کو ہزارہ ٹائون جانے سے روکا جس پر خود کش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا جس کے نتیجے میں چوکیدار جاں بحق ہوا گزشتہ شب بس میں ہونے والے بم دھماکے جہاں 11 افراد لقمہ اجل بن گئے وہیں سیکورٹی کے حوالے سے آئے روز ہونے والے اعلیٰ حکام کے اجلاسوں اور سیکورٹی اقدامات کی کی قلعی بھی کھول دی۔ 

11:56 شام مارچ 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔