یونیورسٹی روڈ اور اس کے اطراف تکفیری دہشت گردوں کا نیٹ ورک نہیں توڑا جاسکا
ایک حساس ادارے کی چار سال قبل کی گئی نشاندہی کے باوجود یونیورسٹی روڈ اور اس کے اطراف تکفیری دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑا نہیں جاسکا اور اس دوران درجنوں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات تواتر سے رونما ہوتے رہے۔ جس میں ڈاکٹرز، سرکاری افسران، پروفیسرز، پولیس اہلکار، طالب علم اور وکلا ہلاک ہوئے۔ مگر اس کے باوجود کراچی اور خاص طور پر ضلعی پولیس نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ باخبر ذرائع نے انکشاف کیا کہ وفاقی وزارت داخلہ کو ایک خفیہ رپورٹ ارسال کی گئی تھی کہ جامعہ کراچی کے اطراف چند ایسے تکفیری دہشتگرد ادارے اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہے ہیں جس میں وہ کامیاب بھی ہوگئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ چار سال میں یونیورسٹی روڈ اور اس کے اطراف بے شمار دہشت گردی کے واقعات رونما ہوچکے ہیں اور اس ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد اس سے اپنی کارروائیاں کرنے کے بعد قریبی پناہ گاہوں میں روپوش ہوجاتے ہیں۔ ضلع شرقی میں گزشتہ سال 100 سے زائد پولیس اہلکار دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اس ضلع میں جرائم کی شرح باقی دو اضلاع سے کہیں زیادہ ہے۔ یونیورسٹی روڈ اور اس سے متصل علاقوں میں فائرنگ اور دہشت گردی کے چند چیدہ چیدہ واقعات میں گزشتہ ماہ 30؍ اگست کو اتوار بازار کے سامنے دو پولیس اہلکار شیر علی اور نظام الدین فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔ اس سے ایک دن قبل حسن اسکوائر کے قریب فائرنگ سے ایڈووکیٹ امیر حیدر شہید ہوئے۔ 2؍ اگست کو سفاری پارک کے سامنے ایڈووکیٹ اشفاق قائم خانی ہلاک، 19؍ جنوری کو نیپا کے نزدیک وفاقی جامعہ اردو کے سامنے فائرنگ کے واقعے میں بلدیہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ طلعت یوسف اور ڈپٹی ڈائریکٹر نیشنل ہائی وے اتھارٹی سہیل بھٹی جاں بحق ہوئے۔ گزشتہ سال ستمبر کے مہینے میں جامعہ کراچی کے پروفیسر شکیل اوج نیپا پل پر فائرنگ سے جاں بحق ہوئے۔ 25؍ نومبر کو ڈاؤ میڈیکل کالج کی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ خالد کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔ اسی برس ابوالحسن اصفہانی روڈ پر دو خودکش بمبار موٹر سائیکل سلپ ہونے کے باعث بارود پھٹنے سے ہلاک ہوگئے۔ سفاری پارک کے سامنے یوم القدس میں شرکت کرنے والے شرکاٗ کی بس پر دھماکہ کیا گیا جس میں سے 2افراد شہید ہوئے۔ 16؍ جنوری کو حسن اسکوائر کے قریب فائرنگ سے آرمی کے کپتان احتشام زخمی ہوئے۔ 21؍ جنوری کو سلور گیٹ جامعہ کراچی کے سامنے کار پر فائرنگ سے علامہ طالب جوہری کے سیکرٹریوجاہت حسین شہید ہوئے۔ 23؍ جنوری کو اردو سائنس یونیورسٹی کے سامنےجے ڈی سی کی ایمبولینس پر فائرنگ سے ڈرائیور محمد علی شہید ، 9؍ جنوری کو یونیورسٹی روڈ سے متصل عیسیٰ نگری میں خودکش حملے میں ایس ایس پی چوہدری اسلم اور دو اہلکار جاں بحق ہوئے۔ 9؍ اپریل کو دارالصحت کے نزدیک فائرنگ سے ڈاکٹر حیدر رضا شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ مسکن چورنگی کے قریب کار پر فائرنگ سے جامعہ کراچی کے دو طالب علم شاداب اور حمزہ شہید ہوئے۔ سفاری پارک کے قریب جامعہ کی بس پر فائرنگ سے 4 طلباء سمیت 7 افراد ہلاک ہوئے۔۔ آخری بڑا واقعہ یونیورسٹی روڈ سے متصل صفورا چورنگی کے نزدیک 13؍ مئی کو پیش آیا جس میں بس پر فائرنگ سے 43 آغاخانی کمیونٹی کے افراد جاں بحق ہوئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال کراچی میں 100 سے زائد پولیس اہلکار شہید ہوئے جس میں ایک بڑی تعداد ضلع شرقی میں شہید ہوئی۔








