پاکستان یمن کی صورتحال میں فریق نہیں ثالث کا کردار ادا کرے

06 اپریل, 2015 00:00

پاکستان یمن کی صورتحال میں فریق نہ بنے بلکہ ثالث کا کردار ادا کرے۔ گزشتہ روز یمن کی صورتحال پر جیو نیوز کی جانب سے خصوصی نشریات کا اہتمام کیا گیا جس میں سیاسی و مذہبی رہنمائوں اور تجزیہ کاروں کی اکثریت نے شرکت کی۔ پی ٹی آئی کے شوکت یوسفزئی اور سلیم صافی نے دو ٹوک الفاظ میں فوج سعودی عرب بھیجنے کی مخالفت کی ۔ سلیم صافی کا کہنا تھا کہ فوج بالکل نہیں بھیجنی چاہئے، فوج پاکستان میں بہت زیادہ مصروف ہے ۔خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سعودی عرب پر آنچ نہ آئے لیکن پہلے مجھے بتایا جائے کہ فریق بننے کا معاملہ ہے تو دوسرا فریق کون ہے، تمام ارکان کی یہی رائے تھی کہ اس جنگ میں فریق بننے سے پاکستان پر خطرناک اثرات مرتب ہونگے اور نتیجہ فرقہ واریت ہوسکتی ہے۔ حکومتی وزیر خرم دستگیر اور صحافی سلیم صافی کی رائے میں اس معاملے میں دوسرا فریق کوئی نہیں تو ثالثی کیسے ہوگی ۔ حافظ احمد اللہ کا کہنا تھا ہمیں بالکل فریق نہیں بننا چاہئے ۔ حیدرعباس رضوی کا کہنا تھا کہ مقامات مقدسہ کی اگر حفاظت کا معاملہ ہے تو یہ الگ بات ہے اس میں دنیا کا کوئی بھی مسلم اس سے انکاری نہ ہوگا اور اگر پاکستان کو کسی جنگ کا حصہ بنانا ہے تو ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔ موجودہ حالات میں پاکستان سعودی عرب کی کیسی مدد کرے کے سوال پر بھی اکثر شرکاء کا کہنا تھا کہ اخلاقی مدد کرنا چاہئے تاہم پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد اور خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ فوجی مدد ہونی چاہئے۔ایک اور سوال کہ اگر سعودی عرب فوج بھیجنا نا گز یر ہوجائے تو یہ فیصلہ کون کرے جس پر تمام شرکاء کی متفقہ رائے تھی کہ فیصلہ پارلیمنٹ کرے۔ رکن اسمبلی روبینہ خالد کا کہنا تھا کہ سو فیصد میرا خیال ہے کہ ثالث بننا چاہئے کیونکہ دیکھا جائے تو دونوں طرف ہی ہمارے مسلمانوں کا مسئلہ ہے ۔ رکن اے این پی زاہد خان کا کہنا تھا کہ امریکا جیسا بڑا ملک بھی آج پریشان ہے ، افغانستان جنگ میں ہم نے اپنا حشر دیکھ لیا ہے۔ شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ حکومت نے بہت دیر کردی ہے حکومت نے پالیسی کا آغاز جس طرح سے کیا وہ پالیسی ایسی ہے جس نے پاکستان کو متنازع بنادیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کار طلعت مسعود کا کہنا تھا کہ بے شک سعودی عرب ہمارے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے بہت پرانا دوست ہے ، ہمارے برے وقت میں کام آیا ہے لیکن یہ سعودیہ کے لئے برا وقت نہیں اور نہ کوئی خطرہ ہے جبکہ یمن جنگ کی وجوہات کے بارے میں پینل ارکان کی رائے الگ الگ تھی بعض نے اسے پراکسی وار کچھ نے اندرونی خلفشار اور دیگر نے بین الاقوامی ایجنڈا قرار دیا ۔

1:30 صبح جولائی 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔