لبنان

عماد مغنیہ کا قتل: موساد کے تعاون کا راز فاش

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہےکہ حزب اللہ کے شہید کمانڈر عماد مغنیہ کو قتل کرنے میں امریکہ کی بدنام زمانہ جاسوس تنظیم سی آئی اے اور اسرائيل کی خفیہ تنظیم موساد ملوث ہیں۔ عماد مغنیہ بارہ فروری دوہزار آٹھ میں دمشق میں ایک بم دھماکے میں شہید ہوگئےتھے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بارہ فروری دوہزار آٹھ کو حزب اللہ کے سینئر کمانڈر عماد مغنیہ دمشق کے ایک ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد ایک سڑک پر آئے جہاں سی آئی اے اور موساد کے ایجنٹ ان کے پیچھا کر رہے تھے۔ جب ،عماد مغنیہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھے تو گاڑی کی پشت پر موجود، اسپیر ویل میں نصب کیا گيا بم پھٹ گیا۔ اخبار کے مطابق جس بم سے شہید عماد مغنیہ کو نشانہ بنایا گيا، اسے موساد کنٹرول کررہی تھی۔ دہشتگردانہ کاروائيوں میں امریکہ اور صیہونی حکومت کا بھرپور تعاون اس بات کو واضح کرتا ہے کہ دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ، امریکہ اور صیہونی حکومت کی پالیسی ہے۔ صیہونی حکومت کی خارجہ پالیسی میں ٹارگٹ کلنگ، ایک عام اور روز مرہ کی بات ہے کیونکہ غاصب حکومت کی بنیاد ہی دہشتگردی پر رکھی گئي ہے جبکہ امریکہ کی جانب سے اس کی حمایت، قدس کی غاصب حکومت کی دہشتگردانہ پالیسیوں کو مزید بڑھاوا دینے کا سبب بنی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ مغرب کی جاسوس تنظیموں خاص طور سے بدنام زمانہ امریکی جاسوس تنظیم سی آئي اے نے دہشتگردانہ اقدامات کرنے میں صیہونی حکومت کی جاسوس تنظیم موساد کی مدد کی ہے۔ واضح رہے تحریک حماس کے ایک لیڈر محمود المبحوح کی ٹارگٹ کلنگ میں مغرب کی خفیہ ایجنسیوں نے موساد کی مدد کی تھی۔ محمود مبحوح کو تقریبا ساڑھے پانچ برس قبل دبئي کے ایک ہوٹل میں قتل کیا گيا تھا اور ان کی ٹارگٹ کلنگ، مغرب اور صیہونیوں کے لئے عالمی سطح پر رسوائي کا سبب بنی تھی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکومت دہشتگردانہ کاروائیوں اور مجرمانہ اقدامات کے لئے کسی حد و حدود کی قائل نہیں ہے، اسی وجہ سے ساری دنیا میں صیہونی حکومت، جب دل چاہتا ہے دہشتگردانہ کاروائياں انجام دیتی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں آیا ہے کہ صیہونی حکومت کی جاسوسی ایجنسی نے سنہ دوہزار دو سے دوہزار آٹھ تک تین سو اسی فلسطینیوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا ہے۔ صیہونی حکومت اور اسکے حامیوں کی دہشتگردانہ ماہیت آشکار ہونے کے باوجود عالمی ادارے خاص طور سے اقوام متحدہ تنظیم نہ صرف، مغربی حکومتوں کے دباؤ میں قدس کی غاصب حکومت کو دہشتگردوں کی فہرست میں شامل نہيں کرتی بلکہ اکثر اوقات اس کے انہتائي ہولناک جرائم کی مذمت سے بھی گریزاں رہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button