کالعدم سپاہ صحابہ کی مردہ باد اسرائیل ریلی کی اندر کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

کالعدم سپاہ صحابہ کی جانب سے جمعتہ الوداع یوم القدس کے روز اسلام آباد میں لال مسجد سے اسرائیل مردہ باد ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے، اس اعلان نے ملک کے باخبر حلقوں کو حیران کردیا ہے، باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس تکفیری کالعدم جماعت کی جانب سے اسرائیل کے خلاف پہلی مرتبہ اسرائیل مخالف کوئی مظاہر ہ کیا جائے گا۔ جبکہ دوسری جانب اس جماعت کے روحانی پیشوا ابوبکر بغدادی کی جانب سے اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کا کوئی اقدام کرنے سے منع کیا گیا ہے، کالعدم تکفیری جماعت کی یہ ریلی ابوبکر بغدادی کے فرمان کی سراسر مخالفت ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے یہ ریلی اندروانی پریشر کو کنٹرول کرنے کے لئے رکھی گئی ہے۔
اندورنی دباؤ
کالعدم سپاہ صحابہ کے کارکنان غزہ پر اسرائیلی حملے پر سیخ پا ہیں لیکن انکی قیادت اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کا بیان دینے اور عمل کرنے سے گریز کررہی تھی، اندورانی ذرائع کا کہنا ہے کہ نیچلی سطح کے کارکناں قیادت کے سعودیہ عرب کے ذریعے اسرائیل سے رابطہ سے بے خبر ہیں اسی وجہ سے انہوں نے قیادت پر دباؤ ڈالا کہ غزہ پر حملے خلاف ریلی نکالی جائے۔ کارکناں کا کہنا ہے اسرائیل کے خلاف سب مسلمان احتجاج کررہے ہیں لیکن ہم خاموش ہیں اس وجہ سے کارکنا ں کا گلی اور محلے میں اسرائیلی ایجنٹ کے القابات کے ساتھ مذاق بھی اڑیا جارہا ہے۔ لہذا کارکناں کے جذبات ٹھنڈے کرنے کے لئے سپاہ صحابہ نے اسرایل مردہ ریلی اسرائیل سے اجازت کے بعد رکھی۔
اسرائیل سے اجازت
دوسری جانب جب اندرونی دباؤ بڑھا تو قیادت نے سعودیہ عرب کے ذریعے یہ مسئلہ اسرائیل کی خفیہ تنظیم موساد کی وہابی و تکفیری ڈیسک کے سامنے بیان کیا،جس پر آل سعود کے ذریعے اسرائیلی موساد کے وہابی ڈیسک کے انچارج نے کہا کہ لودھیانوی سے کہو کے اگر ریلی رکھنی ہے تو جمعتہ الوداع کے دن رکھے جس دن تمام مسلمان ہمارے خلاف احتجاج کرتے ہیں، تاکہ ہمارے تکفیری کارکناں کا غصہ بھی کم ہوجائے اور دیگر دیوبندی و وہابی عوامی پریشر کو بھی کنٹرول کیا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل کی خارجہ پالیسی میں یہ بات شامل ہے کہ دنیا بھر میں اسرائیل اپنی امداد پر چلنے والی اسرائیل مخالف قوتوں کو جنم دیتا ہے جو عوامی ردعمل کو کنٹرول کرسکیں۔
ریلی کا پوسٹر
اس کالعدم جماعت نے ریلی کا پوسٹر بھی شائع کیا ہے جس پر لکھا ہے بیت المقدس کی آزادی کے لئے اب نہیں تو کب اُٹھو گے۔ یہ جملہ مضحکہ خیز ہے، 80 کی دہائی میں بنے والئ جماعت کو 2014 میں بیت المقدس کی آزادی اور حرمت کا خیال آیا جبکہ روزانہ کی بنیاد پر یہ پاکستان کی کتنی بیت المقدس اور مسجد اقصی کی حرمت کو پامال کرچکے ہیں، پاکستان میں غزہ برپا کرنے والے غزہ کے لئے جلوس نکال رہے ہیں، جبکہ پاکستان میں ظالم یزید ابن معاویہ کے خلاف نکالے جانے والے جلوسوں کو یہ تکفیری گروہ بدعت قرار دیتا ہے،کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟
اسرائیل یا شیعہ مخالف ریلی
اس کے علاوہ پاکستان کے دیگر مخلص حلقوں نے اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اسرائیل مخالف ریلی صرف نام کی حد تک ہے جبکہ اس کا اصل ہدف پھر شیعہ مسلمان ہونگے اور انکے خلاف بیان بازی اور تکفیر کے نعرے اس ریلی کی شان ہونگے۔ ان مخلص حلقوں نے اسلام آباد انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ ان دہشتگردوں کو ملک کا امن و امان خراب کرنے سے روکا جائے ،کیوں کے جمعتہ الوداع کو تمام شیعہ سنی مسلمان مل کر اسرائیل کے خلاف احتجاج کریں گے اس موقع پر یہ تکفیری خوارج ٹولہ اپنی تقریر کے ذریعے نفرتیں پھیلائیں گے اور ماحول کو خراب کرکے اسکا فائدہ اسرائیل کو پہنچائیں گے۔








