ڈیموکریٹس کا ٹرمپ پر سخت حملہ: ٹرمپ کا مؤقف بکواس قرار دے دیا، گارڈین رپورٹ

02 مئی, 2026 18:01

شیعیت نیوز :برطانوی اخبار گارڈین نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ ارکان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ ختم ہو چکی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ کشیدگی اب بھی خلیج فارس میں جاری ہے۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ اراکین نے صدر ٹرمپ کے ایران کے ساتھ دشمنی کے خاتمے سے متعلق دلائل کو کھلے الفاظ میں فضول قرار دیا ہے۔

گارڈین کے مطابق، امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ رہنماؤں نے ٹرمپ کے اس دعوے کو واضح طور پر مسترد کر دیا جو انہوں نے ایک سرکاری خط میں پیش کیا تھا۔ یہ خط ٹرمپ نے جمعے کے روز سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے سربراہان کو ارسال کیا تھا۔

ٹرمپ نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ 7 اپریل 2026 کے بعد امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان کسی قسم کی فائرنگ یا جھڑپ نہیں ہوئی اور وہ دشمنی جو 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی تھی، اب ختم ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : رہبر معظم کے تاریخی فرمان کے مطابق خلیج فارس میں قوانین نافذ ہوں گے، سپاہ پاسداران انقلاب

گارڈین نے کہا کہ ٹرمپ جس جنگ کے بارے میں دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکہ نے اسے پہلے ہی گھنٹے میں جیت لیا تھا، وہ اب بھی ختم نہیں ہوئی، کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان خلیج فارس میں باہمی محاصرہ اور کشیدگی بدستور جاری ہے۔

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے اقلیتی رہنما چیک شومر نے ٹرمپ کے خط پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ باتیں بکواس ہیں اور یہ جنگ غیرقانونی ہے۔

شومر نے خبردار کیا کہ اگر ریپبلکن ارکان اس جنگ کی حمایت کرتے رہے اور اسے جاری رہنے دیا گیا تو مزید جانیں خطرے میں پڑیں گی، ملک میں بدامنی بڑھے گی، قیمتیں بڑھ جائیں گی اور امریکی عوام کے لیے زندگی مزید مہنگی ہو جائے گی۔

ڈیموکریٹ سینیٹر جین شاہین نے بھی ٹرمپ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ شروع ہوئے 60 دن گزر چکے ہیں مگر ٹرمپ کے پاس نہ تو کوئی واضح حکمت عملی ہے اور نہ ہی اس جنگ سے نکلنے کا کوئی راستہ موجود ہے۔

شاہین کے مطابق، ٹرمپ حکومت اس مداخلت کو عوام کے سامنے درست ثابت کرنے میں بھی ناکام رہی ہے، جبکہ اس جنگ کے نتیجے میں امریکی عوام کی معاشی حالت مزید خراب ہو گئی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ امریکی عوام اس تنازعے کے مستقل خاتمے اور قیمتوں میں کمی چاہتے ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ٹرمپ حکومت سنجیدگی سے سفارتی راستہ اختیار کرے۔

اس سے قبل امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی لکھا تھا کہ ٹرمپ حکومت یہ کہہ کر کانگریس سے جنگ کی منظوری لینے کی قانونی مدت سے بچ رہی ہے کہ موجودہ جنگ بندی نے 60 روزہ مدت کا شمار روک دیا ہے۔

اخبار کے مطابق، ٹرمپ کا یہ مؤقف ڈیموکریٹس میں شدید غصے کا سبب بنا ہے جبکہ بعض ریپبلکن ارکان نے بھی اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

7:09 شام مئی 2, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔