شگر بلتستان میں وحدت کو پارہ کرنیکی مذموم کوشش، علماء پر دھاوا اور تکفیری نعرے بلند
بلتستان کے علاقہ شگر میں ایک خاص ٹولے کی جانب سے مختلف مکاتب فکر کو آپس میں لڑانے کی مذموم کوشش ایک عرصہ سے جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے ماضی میں بھی اہل بیت (ع) کی شان میں گستاخی کی گئی جبکہ حکومت کی جانب سے کوئی راست اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ شگر میں ایک سرکاری ادارہ کے ملازم کی جانب سے دوسرے مکاتب فکر کے خلاف غلیظ پروپیگنڈے پر مبنی کتاب تحریر کرنے کے بعد تقسیم بھی کی گئی اور انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی۔ اس مذکورہ کتاب کی مذمت کرنے پر عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنا کر افطاری کے موقع شگر گلاب پور میں دھاوا بول دیا گیا اور جوانوں کے ردعمل پر پسپا ہوگئے، البتہ چند شرپسند عناصر بچوں اور خواتین کو یرغمال بنا کر سڑک پر بٹھا کر مسلسل ایک خاص مکتب کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہے اور تکفیری نعرے بلند کرتے رہے۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین علامہ آغا علی رضوی اور شیخ زاہد حسین زاہدی نے شگر اور اسکردو کے جوانوں کو صبر کی تلقین کی اور انہیں مذکورہ مقام پر آنے کی اجازت نہیں دی۔
ذرائع کے مطابق شگر کایو میں محفل عید سے خطاب کرتے ہوئے شرپسندی پر مبنی مذکورہ کتاب کی مذمت کی گئی تھی اور واضح کیا گیا تھا کہ اگر تفرقہ اور فتنہ پھیلانے والے مواد کو ضبط نہیں کیا جاتا اور مجرم کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا تو حالات کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ محفل عید کے بعد علمائے کرام کے لیے شگر گلاب پور میں افطاری کا انتظام ایک مقامی عالم دین کے گھر تھا۔ شرپسندوں تک یہ اطلاع پہنچی تو انہوں نے فوری میٹنگ کے بعد گلاب پور شگر میں علماء پر حملے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے پر سارے متفق نہیں ہوئے تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ خواتین اور بچوں کو ڈھال بنا کر دھاوا بول دیا جائے اور کسی بھی ردعمل کے نتیجے میں اپنی شرپسندی چھپ جائے گی، بچوں اور خواتین پر تشدد کے الزامات کی بنا پر دنیا کے سامنے مظلوم بن کر پیش ہو جائیں گے اور دنیا بھر کی ہمدریاں سمیٹ کر بلتستان بھر میں مذہبی منافرت کو ہوا دینے کا موقع مل جائے گا۔ لیکن علمائے کرام نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے شگر اور بلتستان بھر کے جوان جو گلاب پور آکر ایک خاص مکتب فکر کے خلاف تکفیری نعرے بلند کرنے، ہرزہ سرائی کرنے والوں کو روکنا چاہتے تھے، متوقع تصادم کے پیش نظر انہیں شگر جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ مخالف ٹولے نے خواتیں اور بچوں کو تکفیری اور غلیظ نعرے سکھا کر سڑک میں بٹھا دیا ہے، آخری اطلاع آنے تک علماء محصور ہیں۔








