پاکستان کے سلفی دیوبندی مدارس میں بھی جہاد النکاح (زنا) کیئے جانے کا انکشاف

26 جون, 2014 10:03

abdulrashedمختلف ذرائع سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ شام اور عراق میں سلفی مفتی محمد العریفی کے جہاد النکاح (زنا) کے فتوی کے بعد پاکستان کے مختلف سلفی دیوبندی مدارس میں جہاد النکاح (زنا) کو جائز قررار دیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق مدارس میں پڑھنے والے طلبہ جہاد النکاح (زنا) کرکے اپنی جنسی تسکین مٹا سکتے ہیں سلفی مفیتوں کا کہنا ہے کہ طلبہ اس طرح سے زنا جیسے عظیم گناہ سے بچ سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مختلف باخبر ذرائع نے یہ انکشاف کیا ہے کہ مجاہدین جو عراق و شام میں لڑرہے ہیں انکی جنسی تسکین کے لئے دیا جانے والے جہاد النکا ح (زنا) کا فتوی اب مدارس میں پڑھنے والے طلبہ پر بھی لاگو ہوگا، سلفی مفتیوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مدارس میں پڑھںے والے طلبہ و طالبات جہاد ہی تو کررہے ہیں،دین کی تعلیم حاصل کرنا جہاد سے کم نہیں ہے لہذا مدارس میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات اس طرح کا آپس میں النکاح (زنا) کرسکتے ہیں تاکہ وہ برائی سے بچ سکیں۔ اس خبر کے عام ہونے کے بعد مدارس میں جانے والی لڑکیوں کے والدین میں بے چینی پائی جارہی ہے۔ جبکہ اسلام آباد میں لال مسجد کے ایک اندورنی ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ سلفی مولانا عبدالعزیز بھی اس نظریہ کے قائل ہیں اور طلبہ کے درمیان جہاد النکاح (زنا) کو جائز قرار دیتے ہیں۔ تاہم طالبان شمالی وزیرستان میں اس فتوی پر عمل پہلے سے کررہے ہیں، طالبان کے لئے جہاد النکاح کے نام پر سلفی و دیوبندی مدارس کی طالبات کو استعمال کیا جارہا ہے۔

واضع رہے کہ شام اور عراق میں سعودی و امریکی ایما پر لڑنے والے جنگجوں کی جنسی تسکین کو پورا کرنے کے لئے سعودی عرب کے ایک مفتی محمد العریفی نے جہاد النکاح کا فتوی جاری کیا تھا، اس فتوی کے بعد شام اور عراق سمیت دنیا بھر سے ہزاروں سلفی وہابی عورتوں نے ان جنگجوں کے ساتھ جہاد النکاح کے نام پر گناہ عظیم کیا۔دوسری جانب عراق سے یہ اطلاعات بھی ہیں کہ داعش کے دہشتگردوں نے موصل میں کنواری لڑکیوں کے کوائف جمع کرنا شروع کردیے ہیں تاکہ ان سے جہاد النکاح کیا جاسکے۔ شام اور عراق کے بعد پاکستان میں دیوبندی سلفی مدارس میں اس طرح کا کام قابل افسوس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے "وہابیت اور اسلام دو متضاد دین ہیں ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں”

2:49 شام جولائی 5, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔