تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے زیر انتظام چلنے والے مساجد اور مدرسے دہشت گردوں کے گڑھ ہیں

کل کراچی کے ایک مدرسے میں دستی بم کے ایک دھماکے میں چار طالب علم ہلاک اور7 افراد زخمی ہوگئے، مدرسے کے منتظمین نے شروع میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ حملہ باہر سے مدرسے پر ہوا ہے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ دھماکہ طالب علموں کے بم سے کھیلنے کے دوران ہوا۔ وفاق المدارس کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیئے ورنہ عوام ان نام نہاد مدارس کے خلاف بھر پور آپریشن کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہوں گے. دھماکے کی کوریج کرنے والی مختلف چینلزکی ٹیموں کو مدرسے کے “طالب علموں” نے شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ ہم سب بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مدرسہ کا تعلق کس مکتب فکر سے ہو گا۔ اس سے پہلے بھی کراچی کے علاقے لانڈھی میں سپاہ صحابہ کے زیر انتظام ” جنّت ” نامی مسجد میں کچھ عرصہ پہلے بم پھٹ گیا تھا جو کہ وہاں تیار کیا جا رہا ہے اور اس وقت بھی مسجد کی انتظامیہ نے اس دھماکے کو کسی دشمن کی کاروائی قرار دیا تھا لیکن بعد میں مسجد کے اندر سے بم بنانے کے آلات اور ساز و سامان برآمد ہونے کے بعد پولیس نے بم بنانے والے سپاہ صحابہ کے تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا تھا لشکر جھنگوی سپاہ صحابہ کے تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے زیر انتظام چلنے والے ایک اور مدرسے کا طالب علم نعیم اللہ چودھری اسلم پر ہونے والے خود کش حملے کا مرکزی کردار تھا جس کا باپ خود بھی ایک مدرسہ چلاتا تھا – ناگن چورنگی پر واقعہ سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کا گڑھ صدیق اکبر مسجد کراچی میں تمام تکفیری مدارس کی سرغنہ مسجد ہے جو کہ پورے کراچی میں پھیلے تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے لئے اسلحہ خانہ اور پناہ گاہ کا کام کرتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اور حکومت اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوے ان ضرار مساجد جو کے فساد کے گڑھ ہیں کے خلاف بھرپور اور جلد سے جلد آپریشن کر کے کراچی اور پاکستان کو ان تکفیری دیوبندی دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں سے پاک کریں –








