ملک کی پہلی سلامتی پالیسی منظور

25 فروری, 2014 14:22

nawz456اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دے دی ہے اور وزیر داخلہ چوہدری نثار کل پارلیمنٹ سے خطاب میں اس کا اعلان کریں گے۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت منعقد ہوا جس میں قومی سلامتی کی پالیسی کے ساتھ ساتھ طالبان سے امن مذاکرات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

قومی سلامتی پالیسی میں کہا گیا ہے کہ طالبان کو یکطرفہ اور غیر مشروط طور پر لڑائی بند کرنی ہو گی۔

قومی سلامتی پالیسی کے تحت نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی(نیکٹا) قائم کی جائے گی اور وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اس کے رکن ہوں گے نیکٹا قومی سلامتی پالیسی کے تحت فوکل ادارہ ہو گا۔

منگل کو ہونے والے اجلاس میں کابینہ نے وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کی گئی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دیدی۔

دوسری جانب وزیر اعظم نے کابینہ میں قومی سلامتی پالیسی کےمسودے کی منظوری کے بعد اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان غیر مشروط جنگ بندی کا اعلان کریں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے نیک نیتی سے امن کے لیے طالبان کو مکمل موقع دیا، طالبان کاموقف سننے کے لیے ان ہی کی نامزد کمیٹی کو وزیرستان بھیجنے کا انتظام بھی کیا مگر طالبان نےمثبت جواب دینےکے بجائے معصوم افراد اور فورسز کو نشانہ بنانا شروع کردیا ۔ طالبان کےاس اقدام نے مذاکراتی عمل بے معنی بنا دیا۔

نواز شریف نے مزید کہا کہ ملک میں امن اولین خواہش ہے اور وہ ہرصورت قائم کیا جائے گا، حکومت عوام کے تحفظ کے لیے ریاست کی رٹ قائم کر کے رہے گی۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کل(بدھ) قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کی موجودگی میں قومی سلامتی پالیسی کا باقاعدہ اعلان کریںگے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی سے متعلق تمام فیصلے اعلیٰ سطح پر کیے جائیں گے اور آپریشن کی صورت میں بے گھر ہونے والے آئی ڈی پیز کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مناسب اقدامات کیے جائیں گے اور آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کو خصوصی پیکج دیا جائے گا۔

وفاقی وزیر برائے ریاست اور سرحدی امور عبدالقادر بلوچ وزیرستان سے ہجرت کرنے والے افراد کی نگرانی کریں گے۔

وفاقی کابینہ نے انٹیلی جنس نظام مضبوط بنانے کے لیے جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ قائم کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔

نیکٹا بِل کو گزشتہ سال 8 مارچ کو قومی اسمبلی نے منظور کیا تھا، بِل کی منظوری کا یہ سفر دسمبر دو ہزار نو سے لے کر مارچ دو ہزار تیرہ تک پر محیط رہا۔

اس پالیسی کے مسودے کے مطابق قومی سلامتی آرگنائزیشن کی کل تعداد 33 ہے جس میں وفاقی اور صوبائی سطح پر پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز شامل ہیں جو مجموعی طور پر دنیا کی چھٹی بڑی فوج کی حیثیت رکھتے ہیں۔

چھیاسی صفحات کے اس مسودے کے ایک ٹکڑے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان عراق کے بعد دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے لیکن اگر واقعات کی شدت کو سمجھا جائے تو پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے اہم ملک سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔

قومی اندرونی سلامتی پالیسی 2013-2018 میں ملکی صورتحال انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے اسے ملکی بقا و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

‘ ء2001 سے 2013 تک پاکستان میں 13 ہزار 721 حادثات رونما ہوئے جو عراق سے کچھ ہی کم ہیں، 2001 سے 2005 تک ملک میں 523 دہشت گرد وارداتیں ہوئیں جبکہ 2007 سے 2013 یہ واقعات 13 ہزار 198 تک پہنچ گئیں۔

ملکی تاریخ میں تیار کردہ پہلی سلامتی پالیسی نے کہا گیا ہے کہ 2001 سے نومبر 2013 تک پاکستان میں پانچ ہزار 272 اہلکاروں اور افسران سمیت 48 ہزار 994 افراد ہلاک ہوئے اور ان میں سے بڑی تعداد 17 ہزار 642 2011 سے 2013 کے درمیان محض تین سال میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی جس میں 2 ہزار 114 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی شامل تھے۔

1:27 صبح جون 14, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔