پاکستانی میڈیا طالبان کی دھمکیوں اور حملوں کی زد میں

ایسا پہلی مر تبہ ہوا ہےکہ کالعدم تحریک طالبان نے میڈیا کے خلاف نہ صرف انتیس صفحات پر مشتمل ایک فتویٰ جاری کیا ہے بلکہ ایسے دو درجن سے زائد صحافیوں اور ٹی وی اینکرز کی فہرست جاری کی ہے، جو ان کے نشانے پر ہیں۔
پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے میڈیا کو بھی نشانہ بنانے کے اعلان پر صحافتی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان میں متعدد صحافی پہلے بھی دہشت گردانہ حملوں میں مارے جاچکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کراچی میں ایک نجی نیوز چینل "ایکپریس” کے عملے کے تین ملازمین کی ایک حملے میں ہلاکت کو اسی سلسلے کڑی سمھجا جارہا ہے۔ پاکستان کا شمار صحافیوں کے لئے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں بھی ہوتا ہے۔
بعض میڈیا ہاؤسز نے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے بظاہر اپنے دفاتر کے ارد گرد سکیورٹی کے انتظامات میں کچھ بہتری کی ہے لیکن صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے یہ انتظامات ناکافی معلوم ہوتے ہیں۔
پاکستان کے ایک معروف میڈیا گروپ "ڈان” سے وابستہ سینئر صحافی مبشر زیدی کا کہنا ہے کہ طالبان نے میڈیا کو ایک فریق قرار دے کر اس پر حملے کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے، جو سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کا متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جہاں پر طالبان کا اثر ورسوخ بڑھ رہا ہے وہاں حملے بھی برھ رہے ہیں، جیسے بنوں ہے، پشاور ہے، اس کے علاوہ بلوچستان کے کچھ علاقے ایسے ہیں۔ تو وہاں پر بہت ضروری ہو گیا ہے کہ میڈیا ہاؤسز کے لیے حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کیا جائے اور ملازمین کی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔‘‘
مبشر زیدی کا کہنا ہے کہ میڈیا پاکستا نی معاشرے میں فرقہ ورانہ اور شدت پسندی کے رجحانات کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس پر سمجھوتہ کرنا ملکی مفاد میں نہیں۔
شدت پسند طالبان کی جانب سے میڈیا کے اداروں پر جانبداری برتنے اور حکومت کا ساتھ دینے کا الزم لگایا گیا ہے۔ ملک میں صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے لیڈر افضل بٹ کا کہنا ہے کہ پاکستانی صحافیوں کے لئے سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ وہ کسی ایک دشمن کے نشانے پر نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس کسی کے مفاد پر بھی ضرب پڑتی ہے وہ صحافیوں کو اپنا دشمن سمھجنے لگتا ہے، ’’طالبان ہوں یا کسی سیاسی جماعت کا عسکری ونگ، ہمیں جو ہدف بنا رہے ہیں وہ ایک مائنڈ سیٹ ہے۔ وہ مائنڈ سیٹ طالبان میں بھی موجود ہے، مذہبی جماعتوں کے عسکری ونگ میں بھی موجود ہے، لسانی جماعتوں میں بھی موجود ہے اور خفیہ ایجنسیوں میں بھی۔‘‘
افضل بٹ کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے میڈیا کے دفاتر اور غیر صحافتی سٹاف کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان ان میڈیا مالکان کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے، جو پہلے اپنے ورکروں کی ہلاکت پر خاموش رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔
اسلام آباد میں قائم ایک تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے سر براہ عامر رانا کا کہنا ہے کہ میڈیا کے خلاف طالبان کی دھمکی کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ وہ ایسا کرتے ہوئے کئی ایک مقاصد ایک ساتھ حاصل کرنا چاہتےہیں، ’’پہلے بھی ان کی حکمت عملی تھی کہ میڈیا کو ہدف بنائیں۔ اب وہ اس میں مزید تیزی لارہے ہیں۔ اس کا ایک پس منظر بھی ہے۔ لیکن حالیہ تناظر میں یہ لگتا ہے کہ دہشت گردی کے دائرہ اثر کو بڑھانے کے لئے میڈیا کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔‘‘
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے حکومت پر بھی زور دیا ہے کہ وہ طالبان کی دھمکی کے پیش نظر میڈیا کے نمائندوں کی حفاظت کے لئے خصوصی اقدامات کرے۔








