نواز اور شہباز حکومت ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش میں ملوث ہیں، سپریم کورٹ از خود نوٹس لے۔علامہ عبدالخالق اسدی

عید میلاد النبی(ص) اور عزاداری کے جلوسوں سے کبھی دہشت گردی نہیں ہوئی بلکہ ان جلوسوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، تاہم پابندی اور محدودیت کی باتیں کرنے والے عناصر دماغی توازن کھو چکے ہیں، حکومت دہشت گرد عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کرے۔علامہ عبدالخالق اسدی
نواز حکومت اور شہباز حکومت ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش میں ملوث ہیں، سپریم کورٹ آف پاکستان از خود نوٹس لے۔علامہ ابوذر مہدوی
رانا ثناء اللہ سانحہ راولپنڈی کی تحقیقات پراثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور کالعدم دہشت گرد گروہوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔علامہ احمد اقبال رضوی
سپریم کورٹ کی نگرانی میں غیر جانبدار کمیشن قائم کیا جائے اور ملک کے دیگر شہروں میں بھی نذر آتش کئے جانے والے مساجد و امام بارگاہوں کا نوٹس لیا جائے۔سید اسد عباس ،وقارالحسنین نقوی،شفیق قادری،سردار حر بخاری،سید ظہیر کاظمی، و دیگر کا احتجاجی مظاہروں سے خطاب۔
لاہور( )ملک بھر کی طرح پنجاب بھر میں بھی شیعہ تنظیموں اور اداروں نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر سانحہ راولپنڈی کی مناسبت سے ’’یوم عظمت نواسہ رسول (ص)‘‘ منایا صوبہ پنجاب کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز،لاہور،قصور،شیخوپورہ،گوجرانوالہ،چکوال،اٹک،سیالکوٹ،جھنگ،ساہیوال،پاکپتن،وہاڑی،ملتان،بہاولپور،رحیم یار خان،بہاولنگر، لیہ،لودھراں،ڈیرہ غازی خاں،مظفر گڑھ،چینوٹ،جہلم،سمیت دیگر شہروں میں پر امن مظاہرے ہوئے لاہور میں شہر بھر کی مساجد کے اائمہ جمعہ ،عزادارن امام حسین ،بانیان مجالس،کا پر امن مظاہرہ بھاٹی چوک بیرون کربلا گامے شاہ پر ہوا جس میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے مطاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صوبایء سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ عبدالخالق اسدی نے کہا کہ عید میلاد النبی(ص) اور عزاداری کے جلوسوں سے کبھی دہشت گردی نہیں ہوئی بلکہ ان جلوسوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، تاہم پابندی اور محدودیت کی باتیں کرنے والے عناصر دماغی توازن کھو چکے ہیں، حکومت دہشت گرد عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کرے سانحہ راوالپنڈی کو پاکستان کے خلاف تکفیری جماعت کی سازش قرار دی اور کہا کہ پنجاب حکومت اور وفاق براہ راست اس سازش کا حصہ بنا ہوا ہے اس سانحے کا اصل مقصد پاکستان میں دہشتگردوں کو موقعہ فراہم کرنا ہے کہ وہ ملکی سالمیت کے ساتھ وہ کھیل کھیلے جس کا ٹاسک انہیں ملک دشمنوں نے دیے ہم ان ملک دشمنوں کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینگیانہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے وزیر رانا ثناء اللہ پہلے ہی کالعدم دہشت گرد گروہوں کے سرغنہ دہشت گردوں کو اپنے ساتھ لے کر گھومتے رہے ہیں، انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ یوم عاشورا کے دن نواسہ ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی(ص) کی شان میں گستاخی کرنے والے عناصر کے خلاف 295/Cکے تحت مقدمہ قائم کر ے قرار واقعی سزا دی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ عید میلاد النبی (ص) اور عزاداری کے جلوسوں پر پابندی اور محدود کرنے کی باتیں کرنے والے اصل میں دماغی توازن کھو بیٹھے ہیں ، ان کاکہنا تھا کہ مملکت پاکستان میں ملک دشمن دہشت گردوں سے نہ تو اسکول کے معصوم بچے محفوظ ہیں، نہ ہی ملک کے ہونہار انجیئنرز، ڈاکٹرز، تاجر، پولیس ، افواج پاکستان ، اور غرض یہ ہے کہ کوئی بھی محفوظ نہیں تاہم جلوسوں کی پابندی اور محدودیت کے بجائے ان ملک دشمن اور اسلام دشمن دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاؤن واحد ایسا عمل ہے جس کے ذریعے پاکستان میں امن وامان قائم کیا جا سکتا ہے۔
علامہ ابوذر مہدوی مرکزی رہنما مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں کہنا تھا کہ ہماری حکومت مٹھی بھر شر پسند عناصر کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ہم ہزاروں شھداء کے جنازے اپنے کندھوں پر اٹھائے لیکن حکومتی رٹ کو چلینج نہیں کیا ماضی قریب کے واقعات گواہ ہے کہ احتجاجی مظاہروں میں قانون کی پاسداری کیسے کی گئی۔اُن کا کہنا تھا کہ سانحہ راوالپنڈی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے لیکن ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ سانحہ راوالپنڈی کے پس پردہ حقائق کو آشکار کیا جائے ۔شرپسندوں کی منت سماجت کی بجائے قانون کی عمل داری یقینی بنائی جائے کسی بھی گروہ کے خلاف یکطرفہ کاروائی امن کی کوششوں کو دھچکا لگے گا ۔لہذا جوڈشیل انکوئری کے بعد بلا تفریق کاروائی کاجائے ہم میڈیا کی وساطت سے یہ واضع کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنی عبادات اور مذہبی رسومات پر کوئی پابندی قبول نہیں کسی واقعہ کو بہانہ بنا کر اگر ہماری مذہبی آزادی چھننے کی کوشش کی گئی تو امن کی کوشش کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔کئی اضلاع سے شر پسندوں کے فعال ہونے کی خبریں آرہی ہیں حکومت فوراََ کالعدم جماعتوں کو نئے ناموں سے کام کرنے سے روکے بصورت دیگر قانون کی عمل داری خطرے میں رہے گی۔مظاہرے میں متفقہ طور پر قرار داد منظور کیے کہ عزاداری کے خلاف ہونے والی سازشوں کو روکا نہ گیا تو اربعین چہلم امام حسین ؑ کا جلوس اور مجالس پارلیمنٹ ہاوس سمیت چاروں صوبوں کے وزیر اعلیٰ ہاوسزز کے سامنے ہونگے،اسلام آباد ،ملتان،چشتیان میں شہید بکیے گئے مساجد و امام بارگاہوں ،شعائراللہ کی توہیں کر نے والوں کے خلاف فوری کاروئی کیئے جائیں پنجاب کے صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ اس واقعے میں دہشت گردوں کی وکالت کر رہا ہے اس متعصب وریر کی نگرانی میں کوئی کمیٹی ملت جعفریہ کو قبول نہیں اس عدالتی کمیشن پر سے ہمارا اعتماد نہیں رہا سپریم کورٹ کے اعلیٰ جج کی نگرانی میں واقعے کی تحقیقات کئے جائیں تاکہ اصل چہروں سے پردہ اُٹھ سکے،بے گناہوں کی گرفتاریاں کر کے یکطرفہ طور پر شیعہ دشمنی کا ثبوت دے رہے ہیں اسلام آباد اور چشتیاں امام بارگاہوں کو نذر آتش کرنے وا لے د ہشت گرد دھندناتے پھر رہے ہیں اگر ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی نہ کی تو ہم ہر قسم کے احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں








