بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو رہا نہ کیا گیا تو یوم عید کے روز یوم سوگ اورحکومت و انتظامیہ کے خلاف یوم احتجاج منایا جائے گا

بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو رہا نہ کیا گیا تو یوم عید کے روز یوم سوگ اورحکومت و انتظامیہ کے خلاف یوم احتجاج منایا جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے رہنما مولانا مرزا یوسف حسین ،برادر علی اوسط مولانا شیخ حسن صلاح الدین مولانا صادق رضا تقوی علامہ آفتاب حیدر جعفری مولانا محمد حسین کریمی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ بابو سر اور سانحہ یوم القدس کے خلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر ملک بھر میں یوم عید کو یوم سوگ کے طور پر منایا جائے گا اور حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ کراچی میں جاری شیعہ نوجوانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بند نہ ہوا اور بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو رہا نہ کیا گیا تو یوم عید کے روز یوم سوگ کے ساتھ ملک بھر میں دہشت گردوں کی سرپرست حکومت ،نا اہل پولیس اور رینجرز انتظامیہ کے خلاف یوم احتجاج منایا جائے گا اور تمام تر حالات ذمہ داری حکومت پر ہو گی ۔
انہوں نے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملت جعفریہ پاکستان کی نسل کشی کا سلسلہ گذشتہ طویل عرصہ سے اور بالخصوص چند سالوں سے مزید شدت سے جاری ہے اور کبھی مساجد و امام بارگاہوں میں فائرنگ کے ذریعے تو کبھی عزاداری کے جلوسوں میں بم دھماکوں کے ذریعے ،اور کبھی بازاروں میں اور کبھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر شیعہ عمائدین کو قتل کیا جاتا رہا ہے اور حد تو یہ ہے کہ اب مسافر بسو ںسے بھی مسافروں کو اتار اتار کر ان کے شناختی کارڈ دیکھے جاتے ہیں اور شیعہ ثابت ہو جانے پر سفاکانہ طریقے سے شہید کر دیا جاتا ہے جس کے تازہ ترین مثالیں آپ کے سامنے سانحہ چلاس میں درجنوں شیعہ مسافر وں کا قتل اور دو روز قبل سانحہ بابو سر میں پچیس شیعہ افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
آپ بخوبی واقف ہیں کہ دشمن اسلام و پاکستان امریکہ ،اسرائیل اور بھارت پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کر کے کمزور کرنے کی گھنائونی سازشوں میں مصروف عمل ہیں جس کی واضح مثالیں آپ کے سامنے سانحہ کامرہ اور اس کے یکے بعد دیگر سانحہ بابوسر اور پھر اسی طرح اگلے ہی روز یوم القدس کی ریلی میں شریک ہونے والے افراد پر بم حملہ کیا جانا ایک ہی سازش کی کڑیاں ہیں اور ملک دشمن عناصر امریکہ،اسرائیل اور بھارت کے مقامی ایجنٹوں کی کاروائی ہے جو مملکت خداداد پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں ۔ملت جعفریہ پاکستان نے ہمیشہ مملکت پاکستان کی بقاء و سلامتی کی خاطر کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور ہمیشہ دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ سانحہ یوم القدس کے فوراً بعد ملت جعفریہ کے علمائے کرام ،زعماء اور اداروں نے متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ یوم القدس ریلی میں شہید ہونے والے معصوم افراد کے قتل کا مقدمہ دہشت گردہ کی جڑ کراچی میں موجود امریکی قونصل جنرل کے خلاف درج کی جائے گی۔
ایک طرف تو ملک دشمن قوتیں پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی ناپاک سازشیں کر رہی ہیں دوسری جانب پولیس اور رینجرز انتظامیہ جو عوام الناس کو سیکورٹی فراہم کرنے میں برہ طرح ناکام ہو نے کے بعد اب دہشت گردی کا شکار ملت جعفریہ کے عمائدین کے گھروں میں چھاپے مار کر بے گناہ افراد کو گرفتار کر رہے ہیں اور ان سے بھاری رشوت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو انتہائی شرمناک فعل ہے ۔جہاں یہ ناکام اور نا اہل پولیس و رینجرز انتظامیہ کراچی میں امن وامان قائم کرنے میں ناکام ہیں وہاں شیعہ بے گناہوں کو گرفتار کر رہے ہیں اور کراچی کے مختلف علاقوں میں شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین سے بد تمیزی اور بد سلوکی کرنے کی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں جس کے بعد ملت جعفریہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے ۔ملت جعفریہ نے ہر مشکل سے مشکل گھڑی میں صبر کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے لیکن گذشتہ دو دنوں سے ملت جعفریہ کے خلاف ہونے والے بلا جواز آپریشن اور پولیس و رینجرز انتظامیہ کی جانب سے خواتین کے ساتھ بد سلوکی کے واقعات نے ہمیں مجبور کر دیا ہے کہ کوئی سنگین اقدام کیا جائے ۔ایک طرف ملت جعفریہ کو دہشت گردہ کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور دوسری طرف دہشت گردوں کے سرپرست پولیس و رینجرز انتظامیہ کے اعلیٰ افسران ملت جعفریہ کے خلاف آپریشن کا آغاز کر دیتے ہیں جس سے واضح ہو تاہے کہ ملک دشمن قوتوں کے مقامی ایجنٹ دہشت گرد وں کو پولیس اور رینجرز کی بھرپور حمایت حاصل ہے ،گذشتہ دو دنوں میں ملت جعفریہ کے دو درجن سے زائد بے گناہ افراد کو شہر کے مختلف علاقوں جعفر طیار،انچولی ،حسن کالونی ،ناظم آباد،نیو کراچی اور متعدد مقامات سے بلا کسی جرم و خطا کے گرفتار کر لیا گیا ہے ۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ شہر کراچی کے امن کو خراب کرنے والے وہی عناصر اور قوتیں ہیں جنہوںنے ماضی میں لسانی فسادات کو ہوا دی اور اب ملت جعفریہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر اپنے غیر ملکی آقائوں کو خوش کرنے میں مصروف عمل ہیں اور یہی وہ عناصر ہیں جو ہمیشہ لسانی فسادات کروا کر سیاست کرتے رہے ہیں اور آج ایک سوچے سمجھے ناپاک منصوبے کے تحت پہلے شہر کراچی میں فلسطینیوں کی حمایت میں نکالی جانے والی القدس ریلی کے شرکاء کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں دو نوجوان شہید ہوئے او ر اس کے بعد شہر بھر میں خون کی ہولی کھیلنے کا منصوبہ بنایا ۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ متعصب پولیس اور رینجرز انتظامیہ کی جانب سے گرفتار کئے گئے شیعہ نوجوانوں کو فی الفور رہا کیا جائے اور سانحہ القدس میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار کیاجائے ،ہم حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ اگر شیعہ آبادیوں پر آپریشن اور چھاپوں کا سلسلہ بند نہ ہوا اور چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کو نہ روکا گیا تو سنگین نتایج برآمد ہوں گے جبکہ ملت جعفریہ عید کے روز کو یوم احتجاج میں تبدیل کر دے گی اور تمام تر حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔ہم حکومت کو باور کرا دینا چاہتے ہیں کہ دہشت گرد عناصر جن کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے اگر ان کو لگام نہ دی گئی اور گرفتار کر کے سزا نہ دی گئی تو ملت جعفریہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے ۔ہم حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں پولیس اور رینجرز کی وردی میں ملبوس دہشت گرد عناصر کا صفایا کیا جائے جو متعصبانہ اور دہشت گردانہ سوچ کے حامل ہیں اور شیعہ آبادیوں پر آپریشن کے دوران خواتین سے بد تمیز ی کے مرتکب ہیں ان کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے ۔ہم نے یوم القدس ریلی کے شرکاء پر ہونے والے بم حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کے لئے درخواست جمع کروا دی ہے اور جن ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے ان کے خلاف اور کراچی میں موجود امریکی قونصل جنرل کے خلاف جلد از جلد ایف آئی آر درج کر کے گرفتار کیا جائے اور مقدمہ قائم کیا جائے ۔اور اگر امریکی قونصل جنرل کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کی گئی تو عدالتوں سے رجوع کیا جائے گا۔
سانحہ بابو سر اور سانحہ یوم القدس کے خلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر ملک بھر میں یوم عید کو یوم سوگ کے طور پر منایا جائے گا اور حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ کراچی میں جاری شیعہ نوجوانوں کی گرفتاریوںکا سلسلہ بند نہ ہوا اور بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو رہا نہ کیا گیا تو یوم عید کے روز یوم سوگ کے ساتھ ملک بھر میں دہشت گردوں کی سرپرست حکومت ،نا اہل پولیس اور رینجرز انتظامیہ کے خلاف یوم احتجاج منایا جائے گا اور تمام تر حالات ذمہ داری حکومت پر ہو گی ۔








