ہم نے اس سال کو دشمن کے مقابلے میں میدان میں حاضر رہنا ہے، علامہ راجہ ناصر

20 مئی, 2012 16:16

raja-nasir-skardo-chahlumعلامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سکردو میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی طرف سے منعقدہ شہداء کے چہلم میں شریک پندرہ سے بیس ہزار مومنین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ خدا کا شکر اداکرتا ہوں کہ علماء اور شہداء اور تعلیمات اہل بیت کی عملی مثال پیش کرنے والی سر زمیں پر اپ لوگوں کی زیارت نصیب ہوئی۔حضرت امام علی علیہ سلام کا فرمان ہے کہ جس نے اپنے زمانے کو پہچانا وہ محفوظ ہو گیا۔

مطلب جس نے اپنے زمانے کو نہیں پہچانا وہ ہلاک ہو کیا ۔اگر ہم لوگ غافل ہو گئے یا سستی کا شکار ہوئے تو دشمن مضبوط ہو تا چلا جاتا ہے۔ جس نے زمانے کو پہچان لیا ہے تو اس پر حوادث زمان اثرانداز نہیں ہوتے۔
لوگوں کی تین قسمیں ہوتی ہیں:

۔۱۔ وقت کے پیچے چلنے والے
۔۲۔ وقت کے ساتھ چلنےوالے
۔۳۔ وقت سے آگے چلنے والے

کامیاب تر وہ ہی ہیں جو زمانے اور وقت سے آگے چلتے ہیں کیوں کہ یہ وہی ہیں جن یہ طاقت و قدرت پائی جاتی ہے کہ زمانے کا رخ بدل سکتے ہیں۔ کیونکہ دشمن سے آگے چلنے والے ہی دشمنوں کو ناکام اور نابودکر سکتے ہیں۔

دشمنوں کی درست پہچان ضروری ہے۔ تب ہی ہم اصلی دشمنوں کے ہاتھوں کو توڑ سکتے ہیں اور دشمنوں کی اجنٹوں کی ہر سازش کو ناکام بنا کر سکتے ہیں۔کیونکہ لبنان میں جب شیعوں کو ہر طرح سے مارا جا رہا تھا۔ تو جوانوں نے ارادہ کیاکہ ہم اپنے دشمن کا تعقب کریں گے اور اس کے پہلے مرحلے کے طور پر انہوں نے اپنے اصلی دشمن کو پہچان لیا تو خود کو اس طاقتور اور مخفی دشمن کے مقابلے کےیے تیار کرنا شروع کیا ۔ اس کے نتیجے میں اندرونی دشمن جو اصل دشمن کے آلہ کار تھے نابود ہو گئے۔اور نتیجہ اسرائیل اور امریکہ کو لبنان سے بھاگنا پڑا۔

امریکہ ہمارے پاکستان کا دشمن ہے۔ اور ایسا دشمن جس کے زیر سایہ ہماری فوجی اور سیاسی حکومتیں چلا کرتی ہیں۔امریکہ دنیا میں ہر جگہ کو نہ امن رکھنا چاہتا ہے اور اسرائیل کو پال رہا ہے۔ کیونکہ دنیا میں نہ امنی اسی کے حق میں ہے۔ اس طرح اس کا تسلط برقرار رہتا ہے۔ چاہے اس کے نتیجے میں انسانیت اور عدل وانصاف کا نام و نشان مٹ جائے ۔ یہ شیطان پوری دنیا میں فتنے کھڑے کرتا ہے اور اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے۔امریکہ ہمارا بڑا دشمن ہے اور دوسرا چھوٹا دشمن بھارت ہے جو اصل میں ہمارے ملک کے وجود کو ہی مٹانا چاہتا ہے اور ہمارے وطن عزیز کو توڑنے کے در پے ہے۔

یہ جو لوگ آپ کو اورہمیں پاکستان میں ہمارے دشمن کو طور پر نظر آتے ہیں یہ در اصل ہمارے دشمن نہیں ہیں بلکہ یہ امریکہ اور بھارت کے اجنٹ اور ان انسانیت اور اسلام و پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھوں کے ہتھیار ہیں۔ہم کو اپنی ملت کو ان دشمنوں کا ساتھ دینے والے خیانیت کاروں سے بھی محفوظ کرنا ہے۔ جن کی خیانت کی وجہ سے ہمارے ملک میں اسلام مخالف اور وطن مخالف طاقتں مضبوط ہو رہی ہیں۔یہ ہمارے ذمہ دار افراد جو خیانت کرتے ہیں یہ نہ صرف خود اپنے ساتھ دشمنی کرتے ہیں بلکہ اسلام ، پاکستان اور قوم و ملت کے بھی دشمن ہیں۔یہ کبھی ہم کو علاقائی تقسیموں میں الجاتے ہیں اور کبھی ہم کو سندبھی ، مہاجر اور پٹھان کہتے ہیں تا کہ ہم ایک دوسرے سے دور ہو جائیں۔ ان غداروں کی غداری کی وجہ سے ہم کو اپنے ہی ملک میں کمزور کیا جاتا رہا ہے۔ جس ملک کو بنانے والے ہم خود ہیں آج ہم کو اپنے وطن میں ہمیں غریب بنا دیا گیا۔

اے میری مادر وطن گواہ رہنا کہ تیرے ان فرزندوں نے کبھی تیرے ساتھ خیانت نہیں کی۔کل جو پاکستان کے مخالف اور قائد اعظم کو کافر اعظم کہنے تھے ۔ان امریکہ کے اجنیٹوں نے مسلمانوں کو کافر کہنا شروع کیا ہے۔ اور آج سنی اور شیعہ دونوں کے کافر ہونے کے فتوے دیتے ہیں۔ یزید کی اس نسل کی پرورش ہمارےان اداروں نے کی ہے۔اور امریکہ اور اسرائیل کے اشاروں پر یہ تخریبی اجینٹ پالے گے۔ اے حکمرانوں اور جرنیلو بناؤ کہ پاکستان میں خیانت کس نے کی ہے۔ کس نے ان دہشت گردوں کو تریبت دی ہےکہ جو آج نہ صرف پاکستان بلکہ اسلام کے لیے بھی ذلت کا باعث ہیں۔

منظم ہو کرہی ہم ان تمام دشمنوں کو نابود کریںگے۔انتکام یہی ہے کہ اس قدر منظم ہو جاؤ کہ دشمن کے دلوں میں آپ کا روب ہو۔ کراچی سے لے کر گلگت اور بلتستان کے پہاڈوں تک منظم ہو جائیں۔ ہم نے اس سال کو دشمن کے مقابلے میں میدان میں حاضر رہنا ہےاور یزید طاقتوں کو مایوس کریںگے۔ دھرنے کا فیصلہ آپ کےلیے کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں اُ پ کی مطلومیت کے حق میں دھرنے ہوئے۔ اس پتہ چلتا ہے کہ ہم منظم ہو رہے ہیں۔ اور ہم میں نظم آ رہا ہے اور ہمارا دشمن انشا اللہ نابود و نامراد ہو گا۔

۔اب ہم تیار اور امادہ ہو رہے ہیں اور یہ نظم اور امادگی ہی ہماری ملت کے حقوق کے حصول کا پہل مرحلہ ہے۔اب خاموشی کا وقت گزار گیا۔ہم ادروں کو اور سیاسی حکمرانوں کو بتاتے ہیں کہ ہمارے حقوق کا پامالی اب ہم نہیں ہونے دیں گے۔ اب ہم ہر ظلم کرنے والے س اس کے ظلم کا حساب لیں گے۔

اے جوانوں آپ کو تیار ہونا ہے ۔بزورگوں کے سرپرستی میں ایسا تیار ہونا ہے کہ جیسے جناب علی اکبر علیہ سلام کے ماننے والوں کو آمادہ و تیار ہونا زیب دیتا ہے۔دنیا میں عدل و انصاف کو عام کرنے اور امن و امان قائم کرنے کی ایک ہی قوم میں طاقت اور صلاحیت ہے اور وہ علی اکبر علیہ سلام کے پیروکا ر ہیں۔

مکتب اہل بیت میں دین اور سیاست ایک ہیں جدا نہیں ہیں۔ ہم علی علیہ سلام کی امامت کے ماننے والے ہیں۔ہمارے جوانوں کا سیدو سردار علی اکبر علیہ سلام ہیں۔ان جوانوں کوجو ولایت اور کربلا کے عاشق ہیں وقت یزیدی نظام کو شکست دینے کےلیے تیار ہونا ہو گا۔ اور پرچم ولایت کے سایہ میں خود کو منظم کر کے ایک ایسی تبدیلی کا آغاز کرنا ہو گا۔ کہ جس کے نتیجہ میں جہاں سے استعمار کو نابود کیا جا سکے۔ اگر ہمارے جوان پرچم ولایت کو مضبوطی سے تھام کر چلیں تو انسانیت ، اسلام ،پاکستان اور تشیع کے دشمن ہمیشہ کے لیے نابودہو جائیں گے۔ غیبت کبریٰ میں ہم سب کو مضطرب ہونا چاہیے ہمارے محبوب امام کی حکموت کا بدل یہ باطل نظام حکومت نہیں ہو سکتا ۔ اس دور میں جب ہمارے امام غیبت میں ہیں تو ایک عدل فقیہ کی حکومت میں قابل ہے کہ معاشرے سے ظلم و جورکا خاتمہ کر سکے۔ ہم کو دنیا پرست ، بے ایمان اور نفس کے غلام حکمران نہیں چاہیےہم کو اہل بیت کی طرف سفرکرنا ہے۔ اور قرآن اور اسلام کے سایہ میں حقیقی عادل حکومت قائم کرنی ہیں جو ولایت فقیہ کی حکومت ہے۔ جب کو قوم یا قبیلہ سیاسی طور پر مضبوط ہوتو کوئی بھی اس کے حقوق پامال کرنے کے بارے میں نہیں سوچتا۔ ہم کو سیاست کے سفر میں اہل بیت کی طرف جانا ہے۔ ہم ایسی سیاست کو لائیں گے جہاں تفرقہ بازی اور نہ امنی اور نہ راحتی کا نام و نشان نہ ہو۔ہم کو اب اپنا ووٹ سوچ کردینا ہے کہ ہم کہیں کسی ایسے شخص کو ووٹ تو نہیں دے رہے جو عمل سے انسانیت اور اسلام و پاکستان کا دشمن ہو۔ یہ مسئلہ سنی اور شیعہ کا نہیں ہے ۔ یہاں ہم کو عدل اور انصاف کو مدنطر رکھنا ہو گا۔ ہم غیرت مندوں اور عادلوں کو ووٹ دیں جن سے مظلوم راضی ہوں اور ہمارے دشمن کو شکست ہو۔ امریکہ اور اسرائیل کو اب جانا ہو گا۔ سیاسی میدان سے ہم ان کے ناپاک وجود کو ختم کریں گے۔ آپ اپنے آپ کو تیار کریں اور مشکلات میں یاد رکھیں کہ ثانی الزہرا سلام اللہ علیہ کا کردار ہمارے لیے ایک نمونہ ہے ہم کو اپنی پہچان کو قائم کرنے اور حق کو حق ثابت کرنے کےلیے یقینا ان سے زیادہ مشکلات کو بردشت نہیں کرنا پڑیں گی یہ ہمارے بزدل خبیث دشمن ہمارے مقابلے میں مر جائیں گے۔ انشااللہ

9:31 شام مارچ 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔