ایران جنگ کے باعث امریکا کو بھاری مالی نقصان

15 مارچ, 2026 17:24

شیعیت نیوز : ایران کے ساتھ جنگ میں امریکا کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہو رہا ہے اور شدید عدم استحکام کا سامنا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جس سے پیٹرول کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، جس سے امریکا بھی متاثر ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کا عزم، جنگ میں تباہ علاقوں کو پہلے سے بہتر تعمیر کریں گے

American Automobile Association نے بتایا کہ ملک بھر میں پیٹرول کی اوسط قیمت بڑھ کر 3.68 ڈالر فی گیلن ہو گئی ہے جو جنگ شروع ہونے سے قبل کے مقابلے میں تقریباً 23 فیصد زیادہ ہے۔

آج کے روز عالمی مارکیٹ میں Brent Crude کی قیمت 2.67 فیصد اضافے کے بعد 103.14 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی جبکہ West Texas Intermediate (WTI) خام تیل 3.11 فیصد اضافے کے ساتھ 98.71 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

US Energy Information Administration کے مطابق اس ہفتے ڈیزل کی اوسط قیمت 4.85 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے جبکہ ایران پر ابتدائی حملوں سے پہلے یہ قیمت تقریباً 3.71 ڈالر فی گیلن تھی۔

ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے شپنگ اور لاجسٹکس کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے۔ مثال کے طور پر بڑی کوریئر کمپنی FedEx ڈیزل کی قیمت 3.55 ڈالر فی گیلن سے اوپر جانے پر اضافی سرچارج عائد کرتی ہے۔

ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ امریکی معیشت پر متعدد طریقوں سے اثر انداز ہو رہا ہے۔ اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں جبکہ کھاد کی سپلائی بھی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ اس کے کئی اہم اجزا کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔

امریکا بین الاقوامی پروازوں کا اہم مرکز ہے۔ ایران جنگ کے باعث ہوائی سفر مہنگا ہو رہا ہے کیونکہ جیٹ فیول کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں جس سے امریکا کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

جس کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اندرونی اور بیرونی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ جہاں امریکی کانگریس سرگرم ہو رہی ہے وہیں Group of Seven ممالک نے صدر ٹرمپ سے جنگ کے جلد خاتمے پر زور دیا ہے۔

7:13 شام مارچ 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔