پاکستان

ٹارگٹ کلرزکا ایم پی اے رضاحید سمیت درجنوں قتل کرنیکا اعتراف

images_14کراچی میں ٹارگٹ کلنگ پر تیار ہونے والی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کالعدم لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے 7 اور سپاہ محمد سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ ٹارگٹ کلرز نے ایم کیو ایم کے ایم پی اے رضا حیدر سمیت درجنوں افراد کو فرقہ وارانہ لڑائی میں قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ حکومت سندھ کی رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی، آئی بی، سی آئی ڈی کرا چی،  اسپیشل برانچ، پاکستان رینجرز، سی آئی ڈی سندھ اور کرا چی پولیس کے افسروں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ان ٹارگٹ کلرز سے تفتیش کی۔ جن میں سے 4 ایم کیو ایم کے ایم پی اے رضا حیدر کے قتل میں ملوت تھے۔ ان مبینہ کلرز میں محمد وسیم عرف بارودی کا تعلق کالعدم لشکر جھنگوی سے ہے۔ اس کی کرا چی میں الیکٹرک شاپ تھی اس نے 2000ء اور 2001ء میں شیعہ مسلک کے لوگوں کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ وہ ڈاکٹر طارق شفیع، نسیم فرعون، مراد نور، عمران موٹا اور ذیشان سے 2000ء میں ملا۔ وہ 7 برس جیل میں رہنے کے بعد 2008ء میں ضمانت پر رہا ہوا۔ 2000ء اور 2001ء کے دوران وہ نیاز حسین مسلم حسین زاہد حسین صلّو اور رومی مسجد کے عمران کے قتل میں شامل ہوا تھا۔ 2008ء میں رہائی کے بعد وسیم نے دوبارہ اپنا کاروبار شروع کر دیا۔ جیل میں شکیل برمی، مہندی اور دلشاد سے ملا تھا جن کے اس جیسے ہی نظریات تھے۔ ان تینوں نے رہائی کے بعد 2009ء میں اس سے قتل و غارت کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے لئے وسیم سے رابطہ کیا مگر اس نے انکار کر دیا جس کے بعد شکیل پکڑا گیا اور اپنے دیگر ساتھیوں کو بچانے کے لئے اس نے وسیم بارودی کا نام لے لیا۔ وہ پانچ ماہ بعد دوبارہ ضمانت پر رہا ہو گیا اور مقصود قریشی، قاسم اور تیمور سے ملا۔ رپورٹ کے مطابق مقصود قریشی وسیم بارودی کا مالی معاون تھا۔ اس نے شیعوں کی مبینہ قتل و غارت کا کام دوبارہ شروع کر دیا اور اس کا پہلا ٹارگٹ آصف رضا تھا جو کہ پرنٹنگ پریس کا کام کرتا تھا۔ آصف کے قتل کے 3 یا 4 دن بعد عباس کمیلی کے بیٹے شہزاد رضا کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ شہزاد آصف کا بھائی تھا۔ وسیم نے نصیر حسین جعفری کو بھی قتل کیا۔ پھر اخلاق نے مجھے بتایا کہ ایک شیعہ جس کا نام فیاص تھا اور وہ آئی ایس او کے دفتر میں کام کرتا تھا وہ ہماری ہمسائیگی میں رہتا تھا۔ اس کو بھی موٹرسائیکل پر قتل کر دیا گیا۔ دو ہفتوں بعد قاسم اور تیمور مجھے طاہر مسجد میں ملے اور مجھے بتایا کہ مقصود نے انہیں 4 سے 5 ہزار روپے دئے ہیں۔ اخلاق نے مجھے بتایا کہ اس کے انکل کے جنازے میں توقع ہے کہ ایم کیو ایم کے ممبر صوبائی اسمبلی رضا حیدر جامع مجسد ناظم آباد میں آئیں گے۔ قاسم اور میں نے کہا کہ ہم وہاں جائیں گے اور موقع محل دیکھیں گے اس وقت میرے پاس 9 ایم ایم پستول تھا جبکہ تیمور کے پاس 30 بور پستول تھا۔ قاسم جدید ہتھیاروں سے مسلح تھا جبکہ اخلاق کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا۔ ہم سب الگ الگ مسجد میں پہنچ گئے اور جب ہم پہنچے تو نماز کا وقت تھا۔ رضا حیدر باہر لوگوں سے ہاتھ ملا رہے تھے۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قاسم نے گارڈ کے سر پر فائرنگ کر دی جبکہ تیمور نے رضا حیدر پر فائرنگ کی لیکن وہ بچ گئے۔ حیدر رضا مسجد کی طرف دوڑے، تیمور نے گارڈ کی کلاشنکوف لی اور حیدر رضا کو مسجد کے واش روم کے قریب قتل کر دیا۔ میں ان دونوں کو اپنی موٹربائیک پر لیاقت آباد نمبر 4 لے آیا اور زیڈ ایم سی آفس کے سامنے اتار دیا۔ میں نے اخلاق سے رضا حیدر کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ میں نے رضا حیدر اور اس کے گارڈ کو قتل کر دیا ہے۔ 20 سے 25 منٹ بعد میں قتل والی جگہ پر گیا اور قاسم کی بائیک لے آیا اور ضیاء الدین ہسپتال کے پارک میں کھڑی کر دی وسیم نے متحدہ تحقیقاتی ٹیم کو انکشاف کیا کہ ایک شیرازی کو بھی مارا اس نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ انہوں نے ڈاکٹر حسن حیدر کو قتل کیا اور ڈاکٹر انیس جعفری کو زخمی کیا۔ متحدہ تحقیقاتی ٹیم نے ایک مبینہ ٹارگٹ کلر سید علی مہدی عرف کا بھی ذکر کیا جس کا تعلق سپاہ محمد سے ہے۔ مہدی کے بارے میں دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ وہ کے ای ایس سی کا پیشہ ور کھلاڑی ہے۔ 2009ء میں وہ سید ابرار حسین رضوی عرف سلطان، نومی اور مشتاق سے ملا جس کو مہدی نے کہا کہ وہ شیعوں کیلئے کام کرے اور اسے 37 ہزار میں ہنڈا 125 بھی لیکر دیا جس نے بعد میں ایک معاویہ کی نشاندہی کی جسے 2010ء میں ایک دکان میں قتل کیا گیا اسے اس نشاندہی کیلئے 4 ہزار 5 سو روپے دیئے گئے۔ مزید برآں ردعمل میں شیعہ عالم مرزا یوسف کا بیٹا جس کا نام خادم حسین ہے، ابرار حسین رضوی نے مہدی کو فون کیا کہ وہ باقیہ ہسپتال آئے۔ وہاں انہوں نے ڈاکٹر شکور کی کالی کار کی ریکی کی جن کا مبینہ تعلق سپاہ صحابہ سے تھا۔ مہدی کے کہنے پر رضوی نے ڈاکٹر شکور کو قتل کیا اور مہدی کو ابرار رضوی کی طرف سے 5 ہزار روپے کا انعام دیا گیا۔ ایک دوسرے کیس میں محمد عمران پنکچر والا کو ابرار رضوی نے مہدی کی ریکی پر قتل کیا اور اسے انعام کے طور پر 2 ہزار روپے ملے۔ مارچ 2010 ء میں ابرار حسین رضوی باب العلم امام بارگاہ کراچی آیا اور اسے مفتی سعید جلالپوری کے قتل کے بارے میں بتایا جن کا تعلق تحریک ختم نبوت پاکستان سے تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حیدر اور ثمر نے پیتل والی گلی گولی مار کراچی میں ایک میڈیکل سٹور کے مالک قتل کے بارے میں بتایا، مہدی نے انکشاف کیا کہ جن لوگوں کو قتل یا زخمی کیا گیا وہ شیعہ فرقے کے خلاف سرگرم تھے۔ اس لئے انہیں شیعوں کے مفاد کیلئے قتل کیا گیا اور وجہ یہ ہے کہ انہیں شیعوں کو قتل کرنے کی وجہ سے مارا گیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے ایک اور مبینہ ٹارگٹ کلر عبداللہ عرف تیمور کا ذکر بھی کیا جس نے وسیم بارودی کے ساتھ مل کر ایم کیو ایم کے ممبر صوبائی اسمبلی رضا حیدر کو قتل کیا وہ ہر واقعہ میں وسیم بارودی کے ساتھ ہوتا تھا اور دونوں اکٹھے گرفتار ہوئے۔ اخلاق پرویز عرف عمیر بھی مبینہ طور پر رضاحیدر کے قتل میں شامل تھا۔ ایک دوسرا مذہبی کلر اور وسیم بارودی کا ساتھی نسیم فرعون نے بھی وسیم کے ساتھ کئی لوگوں کے قتل میں شامل ہونے کا اعتراف کیا تاہم اس نے قرآن کی مبینہ گستاخی پر ایک عیسائی کو بھی قتل کیا۔ ایک دوسرا ٹارگٹ کلر آصف رشید عرف ڈنڈا ہے
عثمان منظور
Source: Daily Jang

متعلقہ مضامین

Back to top button