حکومت جواب دے،آیت اللہ خامنہ ای کے عاشق اور ٹرمپ کے مخالف جوانوں پربراہِ راست گولیاں کیوں چلائی گئیں؟ علامہ راجہ ناصرعباس
شیعیت نیوز: سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کروڑوں اہلِ تشیع دو بڑی شخصیات کی تقلید کرتے ہیں:
آیت اللہ خامنہ ای اور آیت اللہ سیستانی۔ دنیا کے اکثر جوان آیت اللہ خامنہ ای کے مقلد ہیں، اور آپ کو معلوم ہے کہ جوانوں میں جذبہ اور حساسیت زیادہ ہوتی ہے۔
جس شخص نے یہ حملہ کیا، اسی کو ہم نے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا ہوا تھا۔ ہم اس کے ساتھ بیٹھتے ہیں، اس کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں، اور وہی حملے کرتا ہے، قتل کرتا ہے اور دھمکیاں دیتا ہے کہ ہم ماریں گے۔ یہ امن کا قاتل ہے، انسانیت کا قاتل ہے۔ اسی وجہ سے نوجوانوں میں شدید غصہ ہے۔
جن لوگوں کو گولیاں ماری گئیں، کیا ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ تھا؟
ان کے چہرے دیکھیں، معصوم بچے تھے۔ آپ کے پاس اور بھی طریقے تھے۔
براہِ راست گولیاں کیوں چلائی گئیں؟ سینے پر گولیاں کیوں لگیں؟ کوئی تو جواب دے۔
کوئی قانون ہے کہ نہتے لوگوں پر گولی چلائی جائے؟ کوئی دہشت گرد جماعت نہیں تھی، کوئی حملہ آور گروہ نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں : حلقۂ گردان حبیب؛ مجتبیٰ خامنہ ای کی ٹیم
ٹھیک ہے، اگر غصہ تھا تو ان کو وہاں جانے سے روک لیتے، مگر کیا اس کا جواب گولی مارنا اور قتل کرنا ہے؟ کیا کسی کی زندہ رہنے کا حق چھین لینا درست ہے؟
اگر آپ قوم کو اس طرف لے جائیں گے تو پھر ان نوجوانوں کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ ہم بھی کوشش کریں گے مگر وہ نہیں رکیں گے۔ اگر آپ پھر گھروں پر چھاپے ماریں، لوگوں کو اٹھائیں، عورتوں کو بچوں سمیت تھانوں میں بند کریں، تو اس سے حالات مزید خراب ہوں گے۔
خدارا پاکستان کے عوام کو جوڑیں، تقسیم نہ کریں۔ ایسے فیصلے نہ کریں جن سے دراڑیں بڑھ جائیں۔ ہم اس وطن کے بیٹے ہیں اور اس کے لیے جان دے دیں گے۔ یہ مٹی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔
خدارا ہمارے نوجوانوں کو گولیاں نہ ماریں۔ اگر کسی سے غلطی بھی ہو جائے تو اس کا جواب قتل نہیں ہوتا۔ ہمیں بتایا جائے کہ کس قانون کے تحت یہ گولیاں چلائی گئیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ باقاعدہ تحقیقات ہوں، یہ معلوم کیا جائے کہ گولیاں کس نے چلائیں۔ پاکستان کے عوام پہلے ہی مہنگائی اور مشکلات سے پریشان ہیں، ایسے اقدامات حالات کو مزید خراب کریں گے۔







