غزہ پر حالیہ حملے، ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال

انسانی حقوق کے کارکنوں اور ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت نے غزہ پر حالیہ حملوں میں ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق غزہ پراسرائیل کے حالیہ حملوں کے دوران غزہ میں موجود عالمی
ماہرین اور ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ تل ابیب نے ان حملوں کے دوران غزہ کی گنجان آبادیوں پر بمباری کے دوران ڈی آئي ایم ای دھماکہ خیز مواد کااستعمال کیا جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اوران مواد کو امریکی ساخت کاراکٹ ہی لے جاسکتا ہے۔ ڈی آئی ایم ای سے پہنچنے والا زخم کہ جس کا استعمال دوہزار نومیں اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی بمباری میں بھی کیا گیا تھا، دیگر ہتھیاروں سے پہنچنے والے زخموں سے مختلف ہوتاہے۔ غزہ میں بم کو ناکارہ بنانے والے دستہ کے رکن احمد ابودہیاہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں سینکڑوں فلسطینیوں کے قتل کے لیے استعمال کئے جانے والے ہتھیاروں میں یورے نیم کا استعمال ہوا ہے۔ اسرائیلیوں نے بعض ایسے نئے ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا جنھیں بین الاقوامی ماہرین بھی شناخت نہيں کرسکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے آرمر پیرسنگ (اے پی) بموں کا بھی استعمال کیا، جن سے ایک ہیبتناک اور ہولناک دھماکہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں سینکڑوں افراد کی جانیں چلی جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق غزہ میں عمارتوں کو پوری طرح جلا دینے کے لئے تھرموبیرک ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا گیاہے۔








