لبنان: حزب اللہ ملک کا ایک اہم ستون
لبنان کے حکام نے حزب اللہ کو اس ملک کے دفاعی اور سیاسی ڈھانچے کا ایک اہم رکن قرار دیا ہے۔ اس بارے میں لبنان کے صدر میشل سلیمان نے صہیونی حکومت کی دھمکیوں اور جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے حزب اللہ کی توانائیوں سے استفادہ کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ میشل سلیمان نے قومی مذاکرات کے شروع کئے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے حزب اللہ کی توانائیوں سے استفادہ کیا جانا ضروری ہے۔ لبنان کے صدر نے کہا کہ اس ملک کے قومی مذاکرات میں قومی دفاع کی اسٹریٹجی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے، بالخصوص صہیونی حکومت کی جارحیت کا مقابلہ کرنے اور ملک کے دفاع کے لئے حزب اللہ کی توانائیوں سے استفادہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے۔
انہوں نے تمام سلام کی سربراہی میں لبنان کی نئی حکومت کی تشکیل کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ نئی حکومت میں لبنان کے تمام گروہوں منجملہ حزب اللہ کی شمولیت ضروری ہے۔ میشل سلیمان نے اسی طرح لبنان کی سرزمین میں شام کے خلاف بعض دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان گروہوں کی منفی سرگرمیوں نے لبنان کی سیکیورٹی فورسز اور فوج کے ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ لبنان کی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے نمائندے محمد رعد نے فوج، قوم اور حزب اللہ کے مثلث پر تاکید کی ہے اور مزاحمت کے مخالفین پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزاحمت اور حزب اللہ کے مخالفین دراصل لبنان کی سلامتی، امن اور استحکام کے مخالف ہیں۔
محمد رعد نے لبنان میں بعض افراد کو کہ جو لبنان میں نئی حکومت کی تشکیل کی راہ میں رکاوٹ ہیں اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افراد اور گروہ مزاحمت کے مقابلے میں خود کو ناکام اور کمزور تصور کرتے ہیں اس لئے نئی حکومت کی تشکیل میں من مانی شرطیں لگا رہے ہیں۔ ادھر حزب اللہ لبنان نے کہا ہے کہ اس کے ہتھیاروں نے ہمیشہ غاصب صہیونی حکومت کو اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ حزب اللہ لبنان کی مجلس عاملہ کے سربراہ ہاشم صفی الدین نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ ہمیشہ اپنے دشمن کے لئے دھمکی کی شکل میں موجود رہے گی اور مزاحمت دشمن کے حملوں کا دندان شکن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
ہاشم صفی الدین نے مزید کہا کہ علاقائی اور عالمی سطح پر کمزور قوموں کی کوئی جگہ نہیں ہے اور صرف وہ قومیں کہ جو اپنے وطن اور ملت کی حمایت کی حامل ہوں عالمی توازن میں مقام حاصل کر پائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی مزاحمت لبنان، اس کی حاکمیت، اس کے وسائل و زرائع اور اس کی آزادی و خود مختاری کے دفاع پر قادر ہے، کیونکہ مزاحمت مضبوط و قوی ہے اور نئے علاقائی حالات میں اس کا مقام ہے۔ حزب اللہ لبنان کی مجلس عاملہ کے سربراہ نے مزاحمت کے دشمنوں کو مخاطب کرتے ہوئے تاکید کی کہ وہ اپنی سیاسی غلطیوں سے اجتناب کریں اور مزاحمت کے خلاف سازشوں کو ختم کریں اور غیر مشروط مذاکرات کے لئے تیار ہو جائیں کیونکہ حزب اللہ ہمیشہ قومی مذاکرات کے لئے تیار اور پیش قدم رہی ہے۔