المنار کا انکشاف: اسرائیل نے سعودی فضائی حدود استعمال کرکے سوڈان پر حملہ کیا

28 اکتوبر, 2012 15:58

saudi israilباخبر ذرائع نے سوڈان میں گولہ بارود کے کارخانے پر حملے کے لئے صہیونی ریاست، امریکہ اور سعودی حکومت کے درمیان قریبی تعاون کا انکشاف کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایک فلسطینی ہفت روزہ جریدے نے باخبر سیاسی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ سوڈان کے جنوبی علاقے میں گولہ بارود کے ایک کارخانے پر صہیونی ریاست کا حملہ سعودی حمایت و تعاون بلکہ شراکت سے انجام پایا ہے اور صہیونی طیارے سعودی فضائی حدود سے گذر کے سوڈان میں داخل ہوئے تھے۔
المنار کے مطابق، باخبر ذرائع نے کہا: صہیونی ریاست کے طیارے اسی راستے سے سوڈان کی فضائی حدود میں داخل ہوئے ہیں جن سے گذر کر اس ریاست کے طیارے 2009 اور 2011 میں داخل ہوئے تھے اور اس راستے سے گذرنا سعودی حکمرانوں کے تعاون کے بغیر صہیونیوں کے لئے ممکن نہ تھا۔
ادھر بعض سفارتی ذرائع نے بھی المنار کو بتایا ہے کہ سوڈان میں گولہ بارود تیار کرنے کے کارخانے پر فضائی حملہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت انجام پایا ہے اور امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی اور امریکیوں کی اطلاع کے بغیر ایسا کرنا ناممکن تھا۔
ان ذرائع نے ان خبروں کی تصدیق نہیں کی ہے کہ یہ حملہ صہیونی ڈرون طیاروں نے کیا تھا۔
ان ذرائع نے کہا: سوڈان پر حملے میں صہیونی طیاروں کے ساتھ امریکی جنگی طیارے بھی شریک تھے۔
واضح رہے کہ کچھ دنوں سے صہیونی ریاست اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز ہوچکا ہے اور اسی دوران امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے کے سربراہ نے سوڈان پر صہیونی حملے سے قبل اسرائیل کا خفیہ دورہ کیا تھا۔
دریں اثناء سوڈانی صدر عمر حسن البشیر نے خارطوم کے جنوب میں یرموک کے فوجی سازوسامان تیار کرنے والے کارخانے پر صہیونی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارے جھگڑے کا سبب یہ ہے کہ سوڈان فلسطین پر صہیونیوں کے حملے کی مسلسل مذمت کرتا آرہا ہے اور اس حملے کا مقصد سوڈان کی دفاعی طاقت کو کمزور کرنا اور فوجی مصنوعات میں سوڈان کی ترقی کا راستہ روکنا ہے۔
سوڈان کے عرب و مسلم ملک کے صدر نے کہا: سوڈان پر اسرائیلیوں کا حملہ عرب ممالک کی طرف سے اس عرب و مسلم ملک کا محاصرہ مکمل کرنے کی کوشش ہے اور اسرائیل نے حملہ کرکے درحقیقت عرب حکام کا ہاتھ بٹایا ہے۔
واضح رہے کہ سوڈان ایک عرب افریقی ملک ہے جس کی اکثریتی آبادی سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور عرب ممالک نہ صرف اس کا محاصرہ کرنے کے درپے ہیں بلکہ اس ملک کو زک پہنچانے کے لئے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ پورا پورا تعاون کررہے ہیں جس سے اس بات کا ادراک بالکل آسان ہوجاتا ہے کہ دنیا بھر میں شیعہ اور سنی تنازعہ کے لئے کوشاں عرب حکمران نہ شیعہ ہیں اور نہ ہی سنی ہیں بلکہ وہ مذہب کا نام صرف امریکی اور اسرائیلی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے استعمال کررہے ہیں۔
عمر البشیر نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سوڈان کی طرف سے صہیونی حملے کا منہ توڑ جواب دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سوڈان کی مسلح افواج مناسب وقت پر صہیونی جارحیت کا بھرپور جواب دیں گی۔
ادھر سوڈان کی برسراقتدار جماعت "قومی کانگریس” نے صہیونی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ صہیونی ریاست کے خلاف کاروائی کرے۔
اسلامی جمہوریہ ایران، مصر اور عرب لیگ نے بھی سوڈان پر صہیونی حملے کی شدید مذمت کی ہے اور حزب اللہ کے ابلاغی تعلقات کے دفتر نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے: حزب اللہ صہیونی ریاست کی طرف سے جنوبی سوڈان میں اسلحے کے کارخانے پر بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوڈان کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتی ہے۔
ادھر صہیونی وزارت جنگ میں پولیٹیکل سیکورٹی سرکل کے سربراہ "عاموس گلعاد” نے کئی روز سے صہیونی ریاست پر مسلط خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا ہے کہ سوڈان ایک خطرناک ملک ہے؛ یہ ملک بن لادن کا اڈا رہا ہے اور اس ملک کے توسط سے فلسطین میں جہاد اسلامی اور حماس کو ہتھیار فراہم کئے جارہے ہیں

3:10 صبح اپریل 7, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔