حقیقت کا روشن ہونا حزب اللہ کے فائدے میں ہے

11 اکتوبر, 2010 12:46

hasannasrollahحزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ حریری قتل کیس کی بین الاقوامی عدالت سیاسی ہے اور اس کا مقصد حزب اللہ پر ضرب لگانا اور لبنان میں بدامنی پیدا کرنا ہے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق سید حسن نصراللہ نے کہا کہ لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کیس کے جھوٹے گواہوں پر مقدمہ چلانا بین الاقوامی عدالت پر اعتماد کا باعث بنے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے دو ماہ قبل ذرائع ابلاغ میں رفیق حریری کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے امکان کا جو مفروضہ پیش کیا تھا وہ  تحقیق کے لیے کافی تھا لیکن عدالت نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور صرف یہ اعلان کیا کہ وہ مزید دستاویزات ملنے کی منتظر ہے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا حقیقت یہ ہے کہ صیہونی دشمن نے حریری کو قتل کیا اور سب جانتے ہیں کہ حقیقت کا روشن ہونا حزب اللہ کے فائدے میں ہے۔ انہوں نے اسی طرح لبنان کے وزیر انصاف کی جانب سے حریری قتل کیس کے جھوٹے گواہوں کے بارے میں کابینہ کو اپنی رپورٹ پیش کرنے میں وقت ضائع کرنے پر بھی تنقید کی۔
دوسری جانب حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے جنوبی بیروت میں حزب اللہ کی جانب سے دس لاکھ درختوں کی کاشت کی تقریب میں صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کے مجوزہ دورۂ لبنان کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایران کی جانب سے لبنان کی حکومت عوام اور مزاحمت کی حمایت کو دو ہزار چھ میں لبنان پر حملے میں صیہونی حکومت کی شکست کا ایک اہم سبب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کی توسیع پسندی کے مقابل فلسطین اور لبنان کی حمایت میں ایرانی حکومت اور عوام کا اتفاق نظر قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے اوپر لگائی جانے والی پابندیوں کے باوجود لبنان کی مدد کرنے اور حتی اس کی فوج کو مسلح کرنے کے لیے تیار ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ اس تعاون کے لیے راستہ ہموار کرے۔

3:28 شام مارچ 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔