

حزب اللہ لبنان نے اس کےہتھیاروں کے بارےمیں امریکہ کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتےہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ صیہونی حکومت کی جارحیت کےخلاف مسلح مزاحمت جاری رکھے گي۔ حزب اللہ کے رکن پارلمنٹ حسن فضل اللہ نے امریکی وزیزجنگ کے الزامات کوسختی سے مستردکرتےہوئےکہا کہ حزب اللہ کےہتھیاروں کا امریکہ اور اسکےاتحادی اسرائيل کے ہتھیاروں اورجرائم سے کوئي مقابلہ نہیں ہے۔
یادرہے امریکی وزیر جنگ نے کہا تھا کہ حزب اللہ کے ہتھیار کئي ملکوں سے زیادہ ہیں۔حسن فضل اللہ نے کہا کہ امریکہ کے ہتھیاروں کا اندازہ ایسے لگایا جاسکتاہےکہ امریکہ ہیروشیما سے لیکرعراق ، فلسیطین ، لبنان اور افانستان تک لاکھوں افراد کا قتل عام کررہا ہے۔ حزب اللہ لبنان کے اس رہنما نے کہا کہ ملک کے خلاف جارحیت اور قبضے کامقابلہ کرنےوالے ہتھیاروں اور امریکہ اور اسکے اتحادی اسرائيل کے ہتھیاروں میں فرق ہے جوکہ دوسروں پرقبضہ کرنے اور جارحیت کے لئے استعمال ہوتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ ضروری ہتھیار حاصل کرتی رہے گي۔یادرہے امریکی وزیرجنک نےواشنگٹن میں صیہونی وزیرجنگ کےساتھ مشترکہ پریس کانفرس میں شام اورایران پرالزام لگایاتھاکہ شام اور ایران حزب اللہ کو ترقی یافتہ اور جدید میزائل فراہم کررہےہیں۔ امریکی وزیرجنگ کا یہ بیان ایسے عالم میں سامنے آیا ہےجبکہ صیہونی حکومت شام پریہ الزام لگاچکی ہےکہ شام نے حزب اللہ کواسکڈ میزائيل دئےہیں۔