عراق میں داعش کےساتھ 400 جرمن باشندوں کے ملحق ہونے کاامکان۔

جرمن چانسلر نے کہا ہے کہ کم از کم چار سو جرمن باشندوں کے عراق میں داعش گروہ سے جاملنے کا امکان ہے ۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کل کہا کہ تخمینوں کے مطابق ، اٹھارہ ہزار افراد داعش کے رکن ہیں جن میں دو ہزار یورپی باشندے ہیں اور امکان ہے کہ ان میں چار سو باشندے جرمنی کے ہیں۔ مرکل نے کہا کہ جرمنی، آئندہ ہفتے عراقی کردوں کو ہتھیار ارسال کرنے کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ جرمنی کے وزیر خارجہ نے بھی کہا ہے کہ مخصوص فوجی سازوسامان ارسال کرنے کے ذریعے کردوں کی مدد کی جائے تاکہ وہ داعش کے ساتھ لڑ سکیں اور انہيں دیگر علاقوں پر قبضہ کرنے سے باز رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ابھی جرمن حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن امکان ہے کہ اتوار کو اس بارے میں کوئی حتمی اور قطعی فیصلہ ہوجائے گا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جرمن میں ہونے والے سروے سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہےکہ اس ملک کے عوام جنگی علاقوں میں اپنے ملک کی مداخلت میں دلچسپی نہيں رکھتے اور کم از کم 63 فیصد جرمن باشندے عراقی کردوں کو ہتھیار ارسال کئے جانے کے مخالف ہیں ۔








