بنگلادیش، فوج کی تعیناتی

بنگلادیش کے مختلف شہروں میں تشدد کا مقابلہ کرنے کی غرض سے ہزاروں کی تعداد میں فوجیوں اور سیکیورٹی فورسیز کو تعینات کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت بنگلادیش کی جانب سے یہ اقدام، حزب اختلاف کی جانب سے دارالحکومت ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں مظاہرے کئے جانے کی اپیل کے ردعمل میں لایا جارہا ہے۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ بنگلادیش کے الیکشن کمیشن نے بھی اعلان کیا ہے کہ فوج، تشدد کا مظاہرہ کرنے والوں سے سختی نمٹے گی۔بنگلادیش کی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بی این پی نے اپنے ملک کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ انتیس دسمبر کو حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج کرتے ہوئے انتخابات کیلئے حکومت کے منصوبے پر اپنی مخالفت کا اعلان کریں۔
بنگلادیش میں حکومت نے پانچ جنوری کو انتخابات کرائے جانے کا اعلان کیا ہے جس کیلئے سیکیورٹی کی تیاریاں بھی کی جارہی ہیں اور فوج کی تعیناتی بھی تشدد روکنے کے ساتھ ساتھ انتخابات کے عمل کو کامیاب بنانے کی حکومت کی حکمت عملی کا ہی حصہ ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی سمیت بعض جماعتوں نے ان انتخابات کے بائیکاٹ اور حکمراں عوامی لیگ سمیت بعض جماعتوں نے ان انتخابات میں شرکت کرنے کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ اس حوالے سے بنگلادیش میں جاری بحران کے نتیجے میں ابتک سو سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں دیگر زخمی ہوچکے ہیں۔








