لاشوں پر رونے اور ماتم کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے، علی گیلانی

04 جولائی, 2013 08:57

ali gilaniجموں و کشمیر کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے ”مارکنڈل کوندہ بل چلو“ پروگرام ناکام بنانے کے لئے حکومت کی طرف سے ضلع بانڈی پورہ اور ضلع گاندربل میں بعض مقامات پر کرفیو اور بعض مقامات پر ناکہ بندیاں عائد کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج ایک منصوبہ بند طریقے پر کشمیریوں کو ایک ایک کرکے قتل کررہی ہے اور پھر لاشوں پر رونے اور ماتم کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی ہے اور تعزیتی جلسوں پر پابندی لگاکر لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کی جاتی ہے، انہوں نے مارکنڈل واقعے کے ایک چشم دید گواہ کی گرفتاری پر زبردست برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ موصوف پر بیان تبدیل کرنے کےلئے دباو ڈالا جارہا ہے اور ریاستی پولیس عرفان کے قتل میں ملوث فوجی اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔

علی گیلانی نے کہا کہ عمر عبداﷲ کی حکومت کشمیریوں پر ہو رہے بے پناہ مظالم اور انسانی حقوق پامالیوں کو کور فراہم کررہی ہے اور وہ ایکس گریشیا ریلیف کے نام پر چند ٹکے خرچ کرکے لوگوں کی زبان بندی کرنے کی کوشش کررہی ہے، مارکنڈل اور کوندہ بل میں شہداء کی یاد میں مقامی طور بلائے گئے تعزیتی جلسوں سے ٹیلیفونک تقریر کرتے ہوئے حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین نے مارکنڈل واقعے کی کسی غیرجانبدار ادارے کی طرف سے تحقیقات کرانے کی ایمنسٹی کی مانگ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ فوج اس واقعے سے متعلق غلط بیانی سے کام لے رہی ہے اور خفّت سے بچنے کے لئے اس نے ایک ایسی کہانی تیار کی ہے، جس کا حقیقت کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، وہ اس قتل کو مشکوک بنانا چاہتے ہیں، حالانکہ جو شخص فوج کا اعانت کار ہے اور جو اس آپریشن کے وقت بھی فوج کے ساتھ یہاں آیا تھا اور جائے وقوع پر موجود تھا، اس نے پبلک اور میڈیا کے سامنے بیان دیا ہے کہ عرفان کو فوجی اہلکاروں نے گولی مار کر ہلاک کیا ہے۔

5:03 صبح مارچ 24, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔