سعودی عرب اور صہیونی حکومت: ایران کے خلاف نئے سمجھوتے پر دستخط

ایران و گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے معاہدے پر اثر انداز ہونے میں سعودی عرب و صہیونی حکومت کی ناکامی کے ساتھ ہی سعودی عرب و صہیونی حکومتوں نے ایران کے خلاف نئے سمجھوتے پر دستخط کیئے ہیں فارس نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے خفیہ ادارے کے سربراہ ” بندر بن سلطان ” اور صہیونی حکومت کی جاسوسی کی تنظیم موساد کے سربراہ ” ٹامیر پارڈو ” نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایران کے خلاف جاسوسی و تخریب کارانہ کاروائیوں اور خفیہ معلومات کے شعبوں میں دو جانبہ تعاون کے فروغ کے لئے سازشی منصوبے پیش کیئے ہیں۔ ایران کے ایٹمی بجلی گھروں کی تنصیبات کے سسٹمز میں خلل ایجاد کرنے کے لئے ” اسٹاکس نٹ ” سے زیادہ طاقتور کمپیوٹر وائرس تیار کرنا اس اجلاس میں موساد کے نمائندوں کی جانب سے پیش کیا جانے والا سازشی منصوبہ تھا جس کا طویل وقت و بھاری اخراجات کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا اور اس سازشی منصوبے پر کام کرنے کی منظوری دیدی گئی ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب کے ولی عہد سلمان بن عبدالعزیز نے اس ملک کے انٹیلیجینس ادارے کے سربراہ اور شام کے بحران کے کیس کے انچارج بند بن سلطان اور صہیونی حکومت کی جاسوسی کے ادارے اور چند اردنی حکام کے درمیان اردن کے ساحلی علاقے عقبہ کی ایک ہوٹل میں ہونے والی ملاقات پر اپنا سخت ردعمل ظاہر کیا تھا اور بندر بن سلطان کو اپنی سرگرمیوں خفیہ نہ رکھنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ یاد رہے شام کے بحران اور ایران کے جوہری مسئلہ کے حوالے سے امریکہ کے نئے رحجان پر سعودی عرب نے شدید احتجاج کیا ہے۔








