متفرقہ

گستاخانہ فلم میں جس گھٹیا پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے محسن انسانیت کی شان میں گستاخی کی گئی ہے، حق تو یہ ہے کہ انسانی اقدار سے آشنا ہر شخص ماتم کرے۔

musامریکہ میں بنائی گئی گستاخانہ فلم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق غور و فکر کرتے ہوئے مجلس علمائے شیعہ (یورپ ) کی مرکزی کابینہ نے گزشتہ چند دنوں کے دوران مختلف اجلاسوں میں اس مسٔلے کا مختلف جہات سے جائزہ لیتے ہوئے بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ مجلس علمائے شیعہ یورپ کے ممبران اس اہانت آمیز فلم کو بنانے اور منظر عام پر لانے میں ملوث تمام شر پسندعناصر کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اور امریکہ کی حکومت سے شدید احتجاج کرتے ہوئے اُسے اِس فتنے کا ذمہ دارسمجھتے ہیں کہ اُس نے ایسی گھٹیا فلم بنانے اور نشر کرنے کی اجازت دی۔ 

ہم سمجھتے ہیں کہ اس فلم کا اجرا پہلے سے ہی مختلف بحرانوں سے دوچار انسانی معاشرے کے امن وسکون کی حالت کو خراب تر کرنے کی ایک شیطانی سازش ہے اور اس وقت دنیا میں مختلف شکلوں میں موجود دہشتگردی کی ایک بدترین صورت ہے اس لئے کہ اگر کسی شخص کو قتل کرنا دہشتگردی ہے تو کسی صاحب ِشخصیت کی شخصیت کا قتل اور اُس کی کردار کُشی اس شخص کو قتل کرنے سے کم نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ صاحبان ِکردار جان دینے کے لئے تو حاضر ہو جاتے ہیں مگر اپنی اہانت اور کردار کشی گوارا نہیں کرتے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ مغربی معاشرے میں کسی سماجی یا سیاسی شخصیت کے کردار کے حوالے سے اگر کوئی زبان درازی کرے تو اس کے خلاف ہرجانے کا قانونی نوٹس جاری کیا جاتا ہے، گویا ہر کوئی اپنی شخصیت کی ایک قیمت رکھتا ہے، اگر ایسا ہے تو دنیا کی عدالتیں ذرا بتائیں تو سہی اُس ذات کی قدر و منزلت کیا ہوگی جس کی محبت تقریباً ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہے اور جسے چاہنے والے اُسے اپنی جان سے بڑھ کر چاہتے ہیں۔
دین اسلام دلیل و برہان کی بنیاد پر قائم اختلاف رائے کا راستہ نہیں روکتا بلکہ مخالفت کرنے والوں کو دلیل لانے کی دعوت دیتا ہے:
ھاتوا برہانکم ان کنتم صادقین ۔ القرآٔن ۔ اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔
لیکن گستاخانہ فلم میں جس گھٹیا پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے محسن انسانیت کی شان میں گستاخی کی گئی ہے، حق تو یہ ہے کہ انسانی اقدار سے آشنا ہر شخص ماتم کرے۔
آج دنیا جن مختلف بحرانوں میں مبتلا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ مختلف مذاہب، اقوام اور تہذیبوں کے درمیان موجود تناؤ کو ختم کرتے ہوئے اُنس و محبت اور رواداری کو فروغ دیا جائے ا ور انسانی معاشرے میں نفرت اور بغض و کینہ پیدا کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
اقوام متحدہ کے ادارے سے ہمارا یہ سوال ہے کہ کیا دنیا کی اقوام کے مقدسات کی اہانت کرتے ہوئے اُنہیں اشتعال دلانے والے عناصر دنیا میں امن و امان قائم کرنے میں رکاوٹ نہیں ہیں؟ اگر ہیں تو پھر یہ ادارہ اشتعال انگیز فلم کے حوالے سے خاموش تماشائی کا کردار کیوں ادا کر رہا ہے؟
کیا امن کے عالمی دن کے موقع پر اس بات کی ضرورت نہیں کہ اُن تمام وجوہات کی طرف توجہ دی جائے جن کے باعث امن و امان کے مسائل پیدا ہوتے ہیں؟
لہذا ہم اقوام متحدہ سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بالخصوص امریکہ کی حکومت کو اس فلم پر پابندی لگانے پر آمادہ کرے اور اس فلم کو بنانے اور اُن کی معاونت کرنے والوں کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button