متفرقہ

انڈونیشی عالم دین کو جرم کے بغیر 2 سال قید کی سزا

Indonashiaانڈونیشیا کے علاقے میں شیعیان آل محمد (ص) کے گھروں کو چند ماہ قبل وہابیوں نے نذر آتش کیا اور انہیں گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا اور ساتھ ساتھ اس علاقے کے شیعہ عالم دین شیخ تاج الملوک پر کفر کے فتوے کسے جس کے بعد سیکولر ہونے کے باوجود وہابیت کے زیر اثر اور لاکھوں مزدوروں اور باندیوں کو زرمبادلہ کمانے کی خاطر سعودی عرب بھجوانے کے حوالے سے آل سعود کے سامنے ہمیشہ کے لئے معذرتخواہ اور بے بس حکومت انڈونیشیا نے وہابی مولویوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور انہیں دو سال قید کی سزا سنائی جبکہ ان پر کوئی بھی قابل سزا الزام نہيں لگا تھا چنانچہ کہا جاتا ہے کہ حکومت انڈونیشیا نے سمپانگ میں شیعیان آل محمد (ص) کے مجرموں کو بچانے کے لئے شیعہ عالم دین کو سزا سنائی ہے۔ 

شیخ تاج الملوک نے نہ تو ہتھیار اٹھایا تھا اور نہ ہی کسی کے گھر پر حملہ کیا تھا اور دوسری طرف سے انڈونیشی حکومت انہيں سزا بھی دینا چاہتی تھی چنانچہ نام نہاد "عدالت” نے ان پر توہین آمیز الفاظ زبان پر لانے کا الزام لگایا اور دعوی کیا کہ "اس عالم دین کی تدریس "اسلامی معیاروں” سے منحرف ہے اور معاشرے کے لئے پریشانی اور تشویش کا سبب بنتی ہے”!۔
شیخ تاج الملوک گذشتہ اپریل میں مشرقی جاوا میں گرفتار ہوئے ہیں اور ان پر ایک الزام یہ ہے کہ "انھو نے دعوی کیا ہے کہ شیعہ قرآن سنی قرآن سے الگ ہے اور اصلی قرآن امام مہدی علیہ السلام کے پاس ہے!” جبکہ شیخ تاج الملوک نے اس دعوے کو سرے سے مسترد کیا ہے؛ لیکن عدالت نے مدعی کی بات کو سند مان کر ان پر ظالمانہ حکم مسلط کیا ہے۔
یاد رہے کہ عام طور پر وہابی اور اسلامی فرقوں کے نا آگاہ افراد دعوی کیا کرتے ہیں کہ شیعہ قرآن سنی قرآن سے مختلف ہے اور رپورٹ کے مترجم کو خود بھی ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس کا بروقت اور مستند جواب دیا گیا ہے۔ دوسری طرف سے اہل تشیع پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ قرآن میں تحریف کے قائل ہیں جس کی عملی تردید پوری دنیا میں شیعیان آل محمد (ص) کے گھروں، مسجدوں اور حتی کہ سرکاری اداروں اور اسکولوں میں موجودہ قرآن کے نسخے اور درجنوں شیعہ تفاسیر ہیں جو اسی موجودہ قرآن پر لکھی گئی ہیں۔
سمپانگ کی عدالت کے قاضی نے شیخ تاج الملوک پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو منفی تبلیغ کرتے رہے ہیں تاہم شیخ تاج الملوک نے ـ مدعی کا وکیل نظر آنے والے ـ قاضی کا دعوی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بہت جلد سمپانگ کے خلاف دعوی ہتک عزت کا دعوی دائر کررہے ہیں کیونکہ اس عدالت نے ان کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچایا ہے اور ان کو کافر کہا ہے۔
ادھر انڈونیشیا میں سرگرم انسانی حقوق کی تنظیموں نے انڈونیشی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شیخ تاج الملوک کو فوری طور پر رہا کردے۔
جیسا کہ بیان کیا گیا اس نام نہاد عدالت کے جج نے ایک طرف سے مدعی یا مدعی کے وکیل کا کردار ادا کیا ہے اور دوسری طرف سے جج کا کردار ادا کرتے ہوئے شیخ تاج الملوک کو سزا سنائی ہے جبکہ شیخ تاج الملوک خود ان شیعیان مظلوم میں سے ہیں جن کے گھروں کو سمپانگ میں وہابیوں نے نذر آتش کیا ہے اور یوں وہ خود وہابی تشدد کا شکار ہوئے ہیں لیکن عدالت نے ظالم اور جارح کے خلاف مقدمہ چلانے اور دہشت گردوں کو سزا دینے کی بجائے مظلوموں اور دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کو سزا سنائی ہے۔ شیخ تاج الملوک کا گھر بھی وہابی حملے میں جل کر راکھ ہوچکا ہے۔
یاد رہے کہ 29 دسمبر 2011 کو وہابیوں نے سمپانگ کی شیعہ آبادی پر حملہ کیا اور ان کے گھروں کو نذر آتش کیا اور اس وقت سے اب تک، متاثرین کی حمایت کی بجائے حکومت، پولیس اور عدلیہ نے دہشت گردوں کا ساتھ دیتے ہوئے شیخ تاج الملوک سمیت درجنوں مظلومین کو گرفتار کیا ہے۔ شیعیان آل محمد (ص) اومین اور سمپانگ کے علاقوں میں واقع تانگکر نانگ اور کرم گائم نامی دیہاتوں میں اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کئے گئے ہیں۔
دوسری جانب سے انڈونیشیا کے علاقے سورابایا میں ظلم و تشدد کا شکار اور لاپتہ ہونے والے افراد کی حمایت کے لئے بننے والی تنظیم "کنتراس” نے انڈونیشی حکومت کے بعض اعلی اہلکاروں کو وہابیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ اور ساز باز کرکے مشرقی جاوا کے جزیرے میں واقع سمپانگ مرکز کی شیعہ اقلیت کو تنگ کرنے اور آزار و اذیت پہنچانے میں ان کے ساتھ قریبی تعاون کا ملزم ٹہرایا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button