

…بحرین، لیبیا اور یمن میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ مرنے والوں کی مجموعی تعداد سوکے قریب پہنچ گئی ہے۔ بحرین کی حکومت نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے دی،تاہم لیبیا نے مظاہروں کو طاقت سے دبانے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔لیبیا میں احتجاج کا سلسلہ 5شہروں تک پھیل گیا ہے ۔ حکام نے مظاہرین کے درمیان رابطے ختم کرنے کیلئے انٹرنیٹ سروس بند کردی ہے ۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مظاہرین اور سکیورٹی فورسز
کے درمیان جھڑپوں میں ہلاک ہونیوالوں کی تعداد84 ہوگئی ہے ۔ تاہم دیگر ذرائع کے مطابق مرنے والوں کی تعداد50 ہے ۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ انہیں لیبیا میں تبدیلی نہیں بلکہ کچھ زیادہ آزادی چاہیے ۔ تاہم حکام کا کہنا ہے ک مظاہرے سختی سے کچل دیئے جائیں گے ۔ شاہ حماد بن عیسی الخلیفہ نے اپوزیشن کو قومی مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے اپنے بڑے بیٹے شہزادہ سلمان کو بات چیت کا اختیاردیا ہے۔ تاہم اپوزیشن کا کہنا ہے کہ کوئی بھی مذاکرات حکومت کے مستعفی ہونے کے بعد ہی ممکن ہیں ۔ بحرین میں مظاہروں کے دوران اب تک8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں۔۔امریکی صدرباراک اوباما نے شاہ حماد بن عیسیٰ کو ٹیلے فون کرکے مظاہرین پر تشدد کی مذمت کی ہے ۔ آسٹریلیا اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کو بحرین کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ ادھر یمن میں صدر عبداللہ صالح کے خلاف مظاہروں کا آج نواں روز ہے اور اب تک چار افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ مظاہرے دارالحکومت صنعا اورعدن میں کئے جارہے ہیں ۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ صدر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں ۔