متفرقہ
ملین مارچ‘ کے لیے قاہرہ، سکندریہ میں مظاہرین کی آمد

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین حکومت مخالف احتجاج کے لیے جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ مظاہرین نے آج ’ملین مارچ‘ کا اعلان کیا ہوا ہے اور مظاہرین امید کر رہے ہیں کہ ملک بھر سے لوگ اس احتجاج میں شامل ہو کر ’ملین مارچ‘ کو کامیاب بنائیں گے اور مصری صدر حسنی مبارک کو حکومت چھوڑنے میں کامیاب ہوں گے۔ ملین مارچ کے لیے مظاہرین دارالحکومت قاہرہ اور مصر کے دوسرے بڑے شہر سکندریہ میں جمع ہو رہے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار نے قاہرہ سے بتایا کہ مظاہرین کو یقین ہے کہ اب وقت قریب آ گیا ہے کہ صدر حسنی مبارک کا تیس سالہ دورِ اقتدار ختم ہو جائے گا۔ مظاہرین نے غیر معینہ مدت کے لیے عام ہڑتال کا بھی اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل مصر میں فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ قاہرہ میں صدر حسنی مبارک کا استعفیٰ طلب کرنے والے مظاہرین پر گولی نہیں چلائے گی۔ دوسری جانب قاہرہ کے ہوائی اڈے سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکام غیر ملکی صحافیوں کی آمد پر ان کا نشریاتی سازوسامان ضبط کر رہے ہیں۔
قاہرہ میں سڑکوں پر جگہ جگہ چیک پوسٹس لگا دی گئی ہے۔ پیر کی صبح سے مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے مرکزی علاقے میں واقع التحریر سکوائر میں پچاس ہزار کے قریب لوگ جمع ہوئے۔ قاہرہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ٹِم وِلکوکس نے بتایا ہے کہ شہر کے دوسرے علاقوں میں زندگی معمول پر واپس آتی دکھائی دے رہی تھی لیکن منگل کے روز ایک بڑا احتجاجی جلوس نکالنے کا اعلان کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق حکومت نے تمام ٹرینوں کی آمدورفت بند کردی ہے تاکہ لوگ اس جلوس میں شامل نہ ہو سکیں۔ قاہرہ میں ہماری نامہ نگار جینی اسد نے بتایا کہ تحریر سکوائر میں ہزاروں کتابچے بانٹے گئے ہیں جس میں فوج سے کہا گیا ہے کہ وہ عوام کا ساتھ دے اور لوگوں کے خلاف احکامات ماننے سے انکار کرے۔
قاہرہ ہی میں ہماری نامہ نگار لیز ڈیوسٹ نے بتایا لوگوں کی بڑی تعداد تحریر سکوائر کی جانب جا رہی ہے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ جو لوگ سکوائر سے واپس جا رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلی شفٹ میں تھے۔
دوسری جانب مصری صدر حسنی مبارک نے نئی کابینہ کا اعلان کیا اور نئی کابینہ نے حلف اٹھایا۔ نئی کابینہ میں جو اہم تبدیلی ہے وہ ہے وزیرِ داخلہ کی۔ حبیب العدلی کو ہٹا کر سابق پولیس افسر محمود واغدی کو وزیر داخلہ مقرر کیا گیا۔ اس کے علاوہ وزیر خزانہ یوسف بوترس غالی کو بھی تبدیل کیا گیا ہے۔