کراچی:سیکورٹی دھمکیوں کے باوجود لاکھوں عاشقان امام حسین علیہ السلام کی مرکزی جلوس عزاء میں شرکت

لبیک یاحسین علیہ السلام!!ہماری جانیں امام حسین (ع) پر قربان،عزادروں کا تجدید عہدلبیک یا حسین علیہ السلام!!یہ تھا امام حسین علیہ السلام کے چاہنے والوں کا امام حسین علیہ السلام پر اندھااور پختہ اعتقاد،کہ پیر کے روز نو محرم الحرام کے مرکزی جلوس عزاء میں چھ سال سے لے کر ساٹھ سال تک کے عزاداروں نے بے خوف و خطر شریک ہو کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ عاشقان حسین علیہ السلام موت سے نہیں ڈرتے۔
یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ شہر کراچی میں ایک ایسے وقت میں کہ جب دہشت گردی کی کئی اطلاعائیں حکومتی زرائع سے موصول ہو رہی ہیں عزاداروں کا بہت بڑی تعداد میں ٩ محرم الحرام کے مرکزی جلوس عزاء میں انتہائی جوش و جذبہ اور عقیدت اور والہانہ انداز سے وارد ہونا قابل ذکراور لائق تحسین ہے۔
پیر کے روز ٩ محرم الحرام کے مرکزی جلوس عزاء میں شریک ایک بزرگ محس گھی والا نے شیعت نیوز کے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”میں صرف اور صرف امام حسین علیہ السلام کے لئے آیا ہوں،اور خدا مجھے توقیق دے کہ مستقبل میں بھی آتا رہوں”۔یہ وہ بزرگ ہے جو انتہائی سنگین دھمکیوں کے باوجود ٩ محرم الحرام کے مرکزی جلوس ہائے عزاء میں شریک تھے نہ صرف وہ خود بلکہ ان کی گود میں ایک دو سالہ بچہ جبکہ ان کے دائیں ہاتھ کی انگلی تھامے ہوئے ایک چھہ سالہ بچہ بھی ان کے ہمراہ تھا۔
امام حسین علیہ السلام سے والہانہ عشق و محبت رکھنے والا ایک اور ٩ سالہ عزادار اکبر علی اپنے جذبات و احساسات کا اظہار اس طرح کرتا ہے ،”مجھے کسی قسم کا کوئی خوف نہیں ہے کہ میں مارا جاؤں،مجھے یقین ہے کہ امام حسین علیہ السلام ہماری حفاظت فرمائیں گے”۔یہ ٩ سالہ عزادار اکبر علی امام حسین علیہ السلام اور آپ کے انصار کی شہادت کے غم میں سیاہ لباس پہنے ہوئے اور پا برہنہ جلوس عزاء میں شریک تھا۔اس نوجوان عزادار کاکہنا تھا کہ وہ ہر سال جلوس ہائے عزاء میں اپنے گھر والوں کے ساتھ نارتھ کراچی سے شرکت کے لئے آتا ہے۔
ایک اور عزادار رانا رضوی جو کہ نشتر پارک سے اپنی دو بچیوں اور ایک جوان بھتیجہ کے ہمراہ ٩ محرم الحرام کے جلوس عزاء میں شریک تھے ،ان کاکہنا تھا کہ ”ہم امام حسین علیہ السلام پر مکمل اعتقاد رکھتے ہیں اور کسی قسم کی سیکورٹی کی دھمکیاں ہمیں جلوس عزاء میں آنے سے نہیں روک سکتیں”۔
ان کی بیٹی نے اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”میں ہر سال اسی طرح ٩ اور ١٠ محرم الحرام کے مرکزی جلوسوں میں شریک ہوتی ہوں اور جب تک زندہ ہوں اسی طرح شریک ہوتی رہوں گی”۔
اس سال نو محرم الحرام کے مرکزی جلوس عزاء کے لئے سیکورٹی کے لئے انتہائی اقدامات کئے گئے تھے جبکہ ١٤٠٠٠ پولیس ،رینجرز اہلکاروںکوسمیت اسکاؤٹس کونمائش چورنگی سے حسینہ ایرانیاں کھارادر تک تعینات کیا گیا تھا۔جلوس عزاء کی طرف آنے والے تمام راستوں کو بڑے کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا تھا جبکہ ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور رینجرز اہلکار جلوس عزاء میں عزاداروں کے درمیان گشت پر معمور کئے گئے تھے۔
جلوس کے دو داخلی راستوں پر سیکورٹی چیکنگ کا زبردست انتظام کیا گیا تھا جہاں اسکاؤٹس جلوس عزاء میں آنے والے عزاداروں کی جامعہ تلاشی ،گاڑیوں کی تلاشی سمیت اپنے فرائض انجام دے رہے تھے جبکہ واک تھرو دروازے بھی نصب کئے گئے تھے تاکہ کسی قسم کا کوئی بارودی مواد یا اسلحہ جلوس عزاء کی حدود میں داخل نہ ہو سکے۔
جلوس عزاء کو پاک حیدری اسکاؤٹس لے کر چل رہی تھی جبکہ راستے میں آنے والے تمام مقامات کی از سر نو تلاشی لی گئی ۔
زرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جلوس عزاء میں داخل ہونے اور جلوس عزاء میں میڈیا کوریج کرنے کے لئے خصوصی پاس جاری کئے گئے تھے۔پولیس زرائع کا کہنا ہے کہ جلوس عزاء میں ٢٠٠ گز کے فاصلے پر بم ڈسپوزل کی ٹیمیں موجود ہیںجو کہ وقتاً فوقتاً جلوس عزاء کے راستوں کی تلاشی کر رہیں تھیں،واضح رہے کہ بم ڈسپوزل کی ٹیموں کے پاس اعلیٰ اور جدید آلات موجود تھے تا کہ کسی بھی قسم کے بم کو فوری ناکارہ بنایا جا سکے۔
دوسری جانب جلوس عزاء کی فضائی نگرانی کےلئے دو ہیلی کاپٹر بھی گشت کر رہے تھے کہ جن پر ماہر نشانہ باز موجود تھے تا کہ زمین پر کسی بھی قسم کی مشکو ک حرکت کرنے والے کو نشانہ بنایا جا سکے جبکہ جلوس عزاء کے آخری حصے میں بڑی تعداد میں پولیس موبائلز،ایمبولینسز اور سیکورٹی اداروں کی نفری موجود تھی۔
٥٨ سالہ حسین عبا س جو کہسن ١٩٦٩ ء سے جلوس ہائے عزاء کے راستے میں عزاداران امام حسین علیہ السلام کےلئے پانی کی سبیل لگا رہے ہیں کاکہنا تھا کہ میں حکومت کی جانب سے فراہم کئے جانے والے سیکورٹی اقدامات سے پوری طرح مطمئن ہوں ،مگر کسی بھی ہنگامی صورت حال کے پیش نظر ہم امام حسین علیہ السلام کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے ہر دم اور ہر وقت تیار ہیں۔
بہر حال یہ صرف نگرانی کا پہلا دن تھا،ڈی آئی جی ساؤتھ اقبال محمود نے ایکسپریس ٹریبیون سےبات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ٩ محرم الحرام کا جلوس عزاء خیریت سے اپنے مقررہ مقام حسینیہ ایرانیاں پہنچ چکا ہے البتہ ١٠ محرم الحرام (یوم عاشور ) کے مرکزی جلوس میں زیادہ محنت اور سیکورٹی انتظامات کے لئے جد وجہد جاری ہے تا کہ یوم عاشورا کا جلوس بھی خیریت سے گزر جائے۔







