ایرانی جنگ کے بارے میں امریکہ کے بڑے جھوٹ
شیعیت نیوز: ایرانی جنگ کے حوالے سے Donald Trump کی جانب سے کیے گئے مختلف بیانات اور بعد میں سامنے آنے والی معلومات کے درمیان فرق پر مباحثہ جاری ہے، جس میں کئی اہم نکات زیرِ بحث آئے ہیں۔
1️⃣ جوہری پروگرام سے متعلق مؤقف
28 فروری کو ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری عزائم ترک کرنے کے مواقع رد کر دیے، تاہم بعد میں عمان کے وزیر خارجہ کی جانب سے یہ بات سامنے آئی کہ ایران نے جوہری مواد کو ہتھیار سازی کے درجے تک نہ لے جانے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: عرب ممالک کی منافقت بے نقاب، پھر کہتے ہیں ایران حملے کرتا ہے
2️⃣ میزائل صلاحیت سے متعلق دعویٰ
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایرانی میزائل جلد امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ Defense Intelligence Agency (ڈی آئی اے) کی رپورٹس کے مطابق ایران کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیت کو مکمل ہونے میں مزید وقت درکار ہے۔
3️⃣ عوامی حمایت اور حملوں کی ویڈیوز
امریکی صدر نے بعض ویڈیوز کو مصنوعی (AI) قرار دیا، تاہم CNN سمیت مختلف ذرائع پر نشر ہونے والی فوٹیجز اور سوشل میڈیا مواد کو متعدد ذرائع سے حاصل شدہ قرار دیا گیا۔
4️⃣ مناب واقعہ
8 مارچ کو ایک بیان میں ایران کو مناب میں ایک اسکول پر حملے کا ذمہ دار قرار دیا گیا، تاہم بعد میں سامنے آنے والی رپورٹس میں اس واقعے کی نوعیت پر مزید تحقیقات اور مختلف دعوے سامنے آئے۔
5️⃣ آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی صورتحال
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن بعد میں اطلاعات سامنے آئیں کہ بعض درخواستوں کو منظور نہیں کیا گیا اور خطے میں سیکیورٹی خدشات برقرار رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان بیانات اور بعد کی معلومات کے درمیان فرق نے جنگی بیانیے اور زمینی حقائق کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے، جو عالمی سطح پر بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔







