داعش اور النصرۃ کے درمیان بچوں کوعسکری ٹرینگ دینے کے حوالے سےالزامات کا تبادلہ

10 اپریل, 2014 09:43

Untitled-2تفصیلات کے مطابق داعش نے جبھۃ النصرۃ پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ خاص طور سے شام کے مشرقی علاقے کے معرکوں میں چھوٹے بچوں سے مدد لے رہی ہے۔ داعش کا یہ کہنا ہے کہ النصرہ کے ایک کمانڈر ابوماریا القحطانی کے حوالے کہ اس پانچ سے چھے سال کے عمر کے بچوں کو اس لڑائی میں استعمال کیا ہے۔ادھر یہ بات بھی زبان زدعام وخاص ہے کہ النصرہ نامی نام نہاد تنظیم کے اہم کمنڈروں نے صوبہ "دیر الزور” میں ۱۴سالہ بچہ کوچندہ جمع کرنے کے مہم میں استعمال کیا۔اس بات کی النصرۃ نے ابھی تک تردید نہیں کی ہے تاہم ان کےاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ جن بچوں کے حوالے سے داعش نے ان پر الزام لگایا ہے دراصل ان کی وہ دیر الزور،حمص اور حلب کے معرکوں عسکری تربیت کرکے اچھا کام کیا ہے۔ بعدازآن النصرۃ نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا اس کام میں خودداعش بھی ملوث نہیں؟ ہم نے دیکھا ہے کہ سینکڑوں بچے ایسے ہیں جن کو داعش نے عسکری تربیت دے کراپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے جبکہ ہم نے اس حوالے سے دین اسلام کے جنگجووں کی سیرت کی پیروی کی ہے اور ہمارے تربیت یافتہ جوان۱۸سال سے کم نہیں ہیں اور اسلامی جنگجووں کی عمریں بھی ایسی تھی جیساکہ اسامہ بن زید،محمد قاسم، سعدبن ابی وقاس، ارقم بن ابی الارقم،طلحہ بن عبداللہ،معاذبن عمروبن الجموح،معوذ بن عفراء،زبیر بن العوام اور عمروبن کلثوم کی پیروی کی ہیں۔ 

انباء آسيا

4:50 شام اپریل 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔