جہاد النکاح: سیکڑوں حاملہ خواتین خطر ناک مرض ایڈز میں مبتلا

تیونس کے ایک روزنامے ’’الچوروک‘‘ میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں لکھا گیا ہے کہ شام میں وہابی ناصبی مفتیوں کے اسلام دشمنی پر مبنی فتوے کے مطابق سیکڑوں تیونسی لڑکیاں جہاد النکاح کے بعد حاملہ ہو گئی ہیں جبکہ ان کے اندر مہلک اور خطر ناک جان لیوا بیماری ایڈز بھی Positiveہے۔ شیعت نیوز کی مانیٹرنگ ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعا ت کے مطابق تیونس کے اخبار ’’الچوروک‘‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں واضح طور پر آیا ہے کہ شام میں شامی حکومت کے خلاف لڑنے والے ناسبی وہابی دہشت گردوں کی جنسی حوس کو مٹانے کے لئے تیونس کے مفتی کی طرف سے فتویٰ دیا گیا تھا کہ دہشت گرد وہابیوں سے ایک خاتون کئی ایک نکاح کر سکتی ہے جس کے بدلے میں اس کے گناہ ختم ہو جائیں گے اور اس جنسی بے راہ روی اور حوس پرستی کو جہاد النکاح کا نام دے کر اسلام کو بدنام کرنے کی سازش کی گئی تھی، تاہم اس کے نتیجے میں وہابی دہشت گردوں کے ساتھ جہاد النکاح کا شکار ہونے والی سیکڑوں تیونسی لڑکیاں حاملہ ہونے کے بعد مہلک اور جان لیوز بیماری ایڈز میں مبتلا ہو گئی ہیں۔
تیونس کے اخبار کے مطابق تیونس کی سول سوسائٹی کے مابین ایک بحث شروع ہو چکی ہے جس میں اس بات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ حاملہ ہو کر لوٹنے والی تیونسی دوشیزائیں اور ان کے بچوں کو حکومت کس زمرے میں شامل کرے گی؟ اور اس سے بڑھ کر ایڈز کا خطر ناک مرض جو ان کے ہمراہ تیونس پہنچ چکا ہے اس پر کس طرح کنٹرول کیا جائے گا؟کیا ان خواتین کو بیوہ، طلاق یافتہ یاان کو پیدا ہونے والی بچوں کی اکیلی ماں کا درجہ دیا جائے گا؟ اسی طرح وہابی دہشت گردوں کے گناہ سے پیدا ہونے والے حرام بچوں کو کیا درجہ دیا جائے گا؟یہ وہ سوالات ہیں جو تیونس کے معاشرے میں اٹھائے جا رہے ہیں۔
اخبار کے ذرائع کے مطابق دوسری طرف تیونس میں مساجد اور دیگر مقامات پر شام میں موجود وہابید ہشت گردوں کی حمایت کے لئے باقاعدہ اجلاس منعقد کئے جا رہے ہیں اور شامی وہابی دہشت گردوں کی حمایت کا سلسلہ جاری ہے اور جہاد النکاح کو جائز قرار دے کر معصوم تیونسی لڑکیوں کی زندگیوں کو برباد کیا جا رہا ہے۔اسی طرح سیکورٹی ذرئع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق نوے فیصد سے زائد اس طرح کے اجلاس نماز کے دوران منعقد کئے جا رہے ہیں اور تیونسی لڑکیوں کو جہاد النکاح کی رغبت دلا کر معاشرتی برائی کو جنم دیا جا رہاہے۔
واضح رہے کہ شام میں وہابی ناصبی دہشت گردوں کی جنسی بھوک کے لئے تیونس کے وہابی اور اسلام دشمن مولوی مساجد میں اور دیگر مقامات پر تیونسی لڑکیوں کی بھرتی کر رہے ہیں جنہیں شام میں جہاد النکاح یعنی وہابی دہشت گردوں کے ساتھ جنسی بے راہ روی کے لئے بھیجا جا تا ہے جہاں پر درجنوں وہابی دہشت گرد ایک ایک دوشیزہ کے ساتھ ناجائز جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں اور پھر اسے جہاد النکاح کا نام دیا جاتا ہے۔
تیونس کے وزیر داخلہ نے انیس ستمبر کو ایک تقریر کے دوران اس مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاد کے نام پر جنسی بے راہ روی کا شکار ہو کر شام سے واپس آنے والی تیونسی لڑکیاں صرف حاملہ ہی نہیں بلکہ متعدد جنسی بیماریوں کے ہمراہ تیونس لوٹ رہی ہیں جو کہ تیونس میں شدید بحران پیدا کر سکتی ہیں۔
ایک انیس سالہ تیونس کی لڑکی لامیہ کہتی ہے کہ مجھے میرے مذہبی رہنماؤں نے جہادالنکاح کی طرف مائل کیا اور شامی فوج کیخلاف لڑنے والے وہابید ہشت گردوں کے ساتھ جہاد النکاح کے لئے شام بھیجا جہاں پر میری ملاقات دوسری تیونسی لڑکیوں کے ساتھ ہوئی اور وہاں پر پاکستان ، لیبیا، اور دیگر ممالک سے بھی لڑکیوں کو بھیجا گیا تھا، تاہم انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کی زندگی اب جہنم سے بد تر بن چکی ہے تاہم میں موقع دیکھ کر وہاں سے فرار ہو گئی ۔
البتہ لامیہ اس وقت پانچ ماہ کی حاملہ خاتون ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں ایڈز بھی پایا گیا ہے جو کہ شام میں وہابی دہشت گردوں کی وجہ سے ہو اہے۔








