بحرینی راہنما کی گرفتاری پر سیاسی جماعتوں نے مذاکرات کا عمل معطل کردیا

20 ستمبر, 2013 13:09

bahrinرپورٹ کے مطابق بحرین کی پانچ سیاسی جماعتوں نے ایک بیان جاری کرہے کہا ہے کہ قومی اور جمہوری اپوزیشن جماعتیں، آل خلیفہ کی طرف انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں، جارحیتوں اور اپنے ہے وعدوں اور دعوؤں کی عدم پابندی کی بنا پر فیصلہ کرتی ہیں کہ قومی مذاکرات کے عمل میں اپنی شرط کو معطل کردیں گوکہ ملک میں سیاسی اور قانونی تبدیلیوں نیز سیکورٹی اقدامات کے حوالے سے آل خلیفہ کے رویئے کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلسل نظر ثانی کی جاتی رہے گي۔
بحرینی جماعتوں نے بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ بحرین میں انسانی حقوق کی مسلسل اور روز افزون پامالیوں کے پیش نظر، انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریوں پر عمل کرے۔
مخالف سیاسی جماعتوں نے ملک پر مسلط نظام حکومت پر مذاکرات کی ناکامی کا الزام لگایا اور کہا کہ حکومت ملک کو سیاسی تناؤ اور سیاسی و فرقہ وارانہ تنازعات کی طرف لے جارہی ہے اور فرقہ وارانہ امتیاز کی بنیاد پر اکثریتی عوام سے تعلق رکھنے والے سرکاری اور غیر سکاری اداروں کے سینکڑوں کارکنوں کو بےروزگار کرررہی ہے۔
سیاسی جماعتوں میں کہا گیا ہے کہ گوکہ ہم گذشتہ سات مہینوں سے جاری قومی مذاکرات میں شرکت کررہے ہيں لیکن ملک میں انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ نہ صرف رکا نہیں ہے بلکہ آل خلیفہ کا تجاوز اندرونی اور بیرونی پیشنگوئیوں سے بھی تجاوز کرگیا ہے اور تازہ ترین اقدام میں جمعیۃالوفاق کے راہنما خلیل مرزوق کے گھر پر ہلہ بول کر انہیں گرفتار کرلیا ہے اور آل خلیفہ کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ خلیفی حکومت نے تمام سیاسی آداب و رسوم کو کچل دیا ہے؛ اور وزارت قانون ـ جو سیاسی جماعتوں کے امور کی نگرانی پر مامور ہے ـ اپنے فرائض منصبی پر عمل نہيں کررہی ہے۔
آل خلیفہ کے اٹارنی جنرل آفس نے منگل کے روز خلیل مرزوق پر لوگوں کو تشدد پر اکسانے اور 14 فروری انقلابی اتحاد کے ساتھ خفیہ رابطے کا الزام لگاکر گرفتار کیا تھا۔
گوکہ بحرین کا انقلاب واحد پرامن انقلاب ہے جس کو سعودی جارحین اور خلیفی غاصبین کوششوں کے باوجود تشدد پر آمادہ نہيں کرسکے ہیں اور اس ملک میں عوام نے آج تک کوئی پرتشدد کاروائی نہيں کی ہے؛ تاہم خلیفی اٹارنی جنرل نے خلیل مرزوق کو تفتیش کے لئے 30 دن تک قید کرلیا ہے اور کہا ہے کہ وہ لوگوں کو دہشت گردانہ جرائم (‏!) پر اکسا رہے تھے!۔
خلیل مرزوق سابق ممبر پارلیمان ہیں جنہوں نے فروری 2011 کو انقلاب کے آغاز پر ہی دوسرے 17 ممبران پارلیمان کے ساتھ مل کر پارلیمان سے استعفی دیا ہے۔
اس سے قبل وزارت قانون نے منامہ میں جلسے جلوسوں پر پابندی لگائی ہے اور سیاسی جمعیتوں کو پابند بنایا ہے کہ وہ بیرونی سفارتخانوں میں جانے سے قبل وزارت خارجہ سے اجازت نامہ حاصل کیا کریں اور مخالفین کا کہنا ہے کہ حکومت کے یہ اقدامات بھی ملک میں سیاسی تناؤ کی فضا قائم کرنے کا سبب ہوئے ہیں۔

3:34 صبح اپریل 11, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔