شام: حرم سیدہ زینب(س) کے مدافع کمانڈر ابوہاجر دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید

19 ستمبر, 2013 09:37

shaheed abu hurرپورٹ کے مطابق، اس سے پہلے بھی غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ دی تھی کہ حرم حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کی حفاظت کے لئے تشکیل یافتہ "ذوالفقار بریگیڈ” کے نائب کمانڈر "فاضل صبحی” شہید ہوئے ہیں لیکن اس خبر کی تصدیق نہيں ہوسکی اور ان کی شہادت کی تفصیلات سامنے نہ آسکیں۔
فاضل صبحی شام میں ابوہاجر کے نام سے مشہور تھے جنہوں نے حرم کے دفاع میں شجاعت کی مثالیں قائم کی تھیں اور اب جبکہ ان کی شہادت کی خبر سے اہل بیت (علیہم السلام) کے شیدائیوں کو صدمہ پہنچا ہے گوکہ وہ اپنا ہدف پانے میں کامیاب ہوئے ہیں اور 21ویں صدی میں اہل بیت(ع) کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔
ابنا نے اس خبر کی صحت و سقم کے بارے میں تحقیق کرتے ہوئے حرم کے مدافع ایک دوسرے کمانڈر ابو غدیر سے رابطہ کیا جنہوں نے ابو ہاجر کی شہادت کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: حضرت زینب(س) کے مدافعین نہ صرف حرم کا دفاع کرتے ہیں بلکہ چونکہ شیعہ علاقے بھی تکفیری اور وہابی دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں چنانچہ ہماری فورسز ان علاقوں میں بھی مصروف دفاع ہیں۔
انھوں نے کہا: ابو ہاجر بھی اپنی بہادرت اور شجاعت کی بنا پر، مدافعین کے کمانڈر کی حیثیت سے اردن کی سرحدوں کے قریب درعا شہر میں تعینات کئے گئے تھے تا کہ اس شہر میں شیعیان آل رسول(ص) کی مدد و حمایت کریں۔
انھوں نے کہا: پیر کے روز درعا میں جھڑپیں ہوئیں جن کے دوران شیعیان آل رسول(ص) کے مدافع و محافظ جناب ابو ہاجر فاضل صبحی کو لمبے فاصلے سے مار کرنے والی بندوق (سنیپر) کی دو گولیوں کا نشانہ بنے جن میں سے ایک گولی ان کے سینے کو لگی تھی اور دوسری کمر کو؛ اور موقع پر ہی شہید ہوگئے۔
ابوغدیر نے کہا کہ جب ابوہاجر کو گولی لگی تو ان کے ساتھی "عیسی ابو نوح” ان کی مدد کو پہنچے لیکن وہ بھی دور سے ہی گولی کا نشانہ بنا جام شہادت نوش کرگئے۔ابو غدیر سے پوچھا گیا کہ "اس وقت ان دو شہیدوں کی میتیں کہاں ہیں؟” تو انھوں نے کہا: ابوہاجر اور ابونوح کی میتیں حرم حضرت عقیلہ جناب زینب (سلام اللہ علیہا) کے حرم مطہر میں منتقل کی گئی ہیں اور یہاں کے لوگ اور شامی افواج کے جوان اور افسر ذوالفقار بریگیڈ کے مجاہدین کے ہمراہ ان کی لئے سوگواری کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا: شہیدوں کی میتیں جمعرات کے روز شام سے ایران منتقل ہونگی جہاں سے انہیں نجف منتقل کیا جائے گیا اور نجف میں ان کی باقاعدہ تشییع ہوگی اور نجف میں ہزاروں افراد ان کے جلوس جنازہ میں شرکت کی تیاریاں کررہے ہیں۔
منطقہ زینبیہ میں امن و امان کے بارے میں پوچھا گیا تو ابو غدیر نے کہا: اس وقت اس علاقے میں مکمل امن ہے اور کوئی جھڑپ نہيں ہورہی ہے۔
انھوں نے کہا: اتوار کے روز حرم کے مدافع مجاہدین کو "شعبا” کے علاقے میں روانہ کیا گیا تا اس علاقے میں ان اکا دکا دہشت گردوں سے کا صفایا کریں جو مختلف علاقوں میں بیٹھ کر سنیپروں سے دمشق ایئرپورٹ کی طرف جانے والے راستے کا امن غارت کررہے تھے چنانچہ مدافعین حرم نے جاکر نہ صرف ان کا صفایا کیا بلکہ ان میں سے پندرہ دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا اور ان کے ہتھیار بھی ضبط کئے۔
انھوں نے کہا کہ اس کاروائی میں دو مجاہدین نے جام شہادت نوش کیا۔
واضح رہے کہ شہید کمانڈر ابو ہاجر ـ جو عراق سے شام عزیمت کرگئے تھے ـ نے شہادت سے قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا: ہم نے یہاں ابوالفضل العباس(ع) بریگیڈ اور الذوالفقار بریگیڈ میں اپنی فورسز منظم کی ہیں اور ہماری فورسز کا تعلق عراق، شام اور دوسرے ممالک سے ہے۔
انھوں نے کہا: ہم نے اپنے جہاد کے آغاز پر شام کی مسلح افواج کے ساتھ مل کر کاروائیاں کیں تا کہ ان علاقوں کو دہشت گردوں سے چھڑا دیں جن پر وہ مسلط ہوچکے تھے۔
انھوں نے کہا تھا: ہمارے مجاہدین کا فریضہ حرم سیدہ زینب(س) کا تحفظ اور دمشق کے نواح میں شیعہ علاقوں کا دفاع ہے۔

2:07 شام اپریل 10, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔