طالبان -امریکہ مذاکرات، علاقے میں ایک نئے فتنے کا پیش خیمہ

دوحہ میں طالبان اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات، جنہیں قطر میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی اور دوحه میں طالبان کا دفتر کھولے جانے کے پیش نظر علاقے میں ایک نئے فتنے کا پیش خیمہ قرار دیا جارہا ہے، تعطل سے دوچار هوگئےہیں۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ نے ایک امریکی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان افغان امن مذاکرات آج متوقع نہیں اور نئی تاریخ کا اعلان افغان حکومت سے صلح مشورے کے بعد کیا جائے گا۔
دوحہ میں طالبان کے دفتر کھولنے کے بعد افغان صدر کرزئی طالبان دفتر کے نام اور جھنڈے پر معترض تھے اور انہوں نے امریکہ سے برہمی کااظہار کیا تھا۔ امریکی وزیر خآرجہ جان کیری نے افغان صدر کرزئی کو دو بار ٹیلی فون کرکے یقین دہانی کرائی ہے کہ طالبان کا دفتر صرف امن مذاکرات کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور دوحہ مذاکرات کا اگلا قدم افغان حکومت سے بات چیت کے بعد اٹھایا جائے گا۔
مبصرین کا کہنا ہے که پاکستان کے کے خفیه ادارے آئی ایس آئی اور امریکی سی آئی کے درمیان پیشہ ورانه هماھنگی کے نتیجے میں طالبان امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر راضی ہوئے ہیں۔








