شام: سعودی شکست؛ بشار باپ سے کم نہیں؛ قطری دستاویزات فاش

24 جنوری, 2013 08:43

sham asadشامی عوام کا بشار الاسد کی حمایت میں مظاہرہ؛ حزب الشعب کے راہنما نے کہا: مسلح گروپوں کے خلاف فوج کی کامیاب کاروائیوں اور دہشت گردوں کی مسلسل پسپائیوں نے آل سعود اور امریکہ جیسوں کو سیاسی راہ حل کی باتیں کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شام کی سیاسی جماعت حزب الشعب کے سیاسی شعبے کے رکن "سمير هواش” نے بدھ (23 جنوری 2013) کو العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شام میں دو برسوں سے جاری مسلحانہ کاروائیوں کے بعد آج سب کے لئے واضح ہوچکا ہے کہ بشارالاسد کی حکومت کو دہشت گردی کے ذریعے ہٹانا، ممکن نہیں ہے، کیونکہ حکومت شام نے قدم بقدم آگے بڑھ کر ملکی صورت حال پر قابو پالیا ہے۔
انھوں نے کہا: سلفی دہشت گردوں نے فوج کا سامنا کرنے سے بے بس ہوکر بم دھماکوں اور نہتے اور بےجرم و گناہ شہریوں کے قتل عام کا سہارا لیا ہے۔
انھوں نے شام میں دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے ممالک کی طرف سے امداد میں کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آل سعود نے حال ہی میں شام کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے شام کا کیس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور یہ درحقیقت شام کے حقائق کا اعتراف اور ذمہ داریوں سے پہلوتہی کے مترادف ہے۔
سمیر ہواش کا کہنا تھا: سعودی وزیر خارجہ "سعود الفیصل” بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی تجویز قابل قابل واقع نہیں ہوگی اور قبول بھی ہوجائے تو ماضی کی طرح بعض ممالک اس کو ویٹو کردیں گے تا ہم ان کا یہ موقف شام میں حکومت کے خلاف ان دہشتگردوں کے لئے ایک پیغام کا حامل ہے جو قبل ازیں سعودی حمایت و امداد وصول کرتے رہے ہیں اور وہ یہ کہ: شام کے خلاف اجنبی قوتوں کے مفاد میں حکومت کو عسکری قوت سے برطرف کرنا، ممکن نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ شام کا مسئلہ روس اور امریکہ کے درمیان اتفاق ہونے کی صورت میں حال ہوسکے گا اور حال ہی میں امریکی صدر اوباما نے بھی شام میں سیاسی راہ حل کی حمایت کی ہے۔
ادھر صہیونی کمانڈر نے کہا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد اپنے والد حافظ الاسد سے کم نہیں ہیں۔
القدس العربی کے مطابق، صہیونی کمانڈر نے شامی حکومت کی طاقت اور مقبولیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدربشارالاسد دہشت گرد ٹولوں کے مقابلے میں مزاحمت و استقامت کے لحاظ سے اپنے والد کی طرح ہیں اور تمامتر پیشنگوئیوں کے برعکس، صدر اسد ڈٹے رہے اور میدان جنگ سے فرار نہيں ہوئے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے والد کی خصوصیات کے حامل ہیں اور شامی افواج ایک ہی قیادت کے تحت اپنے ملک میں فرائض انجام دے رہی ہے۔
قطر ابتداء ہی سے شام میں مداخلت کررہا ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق اس ملک نے اپنے بعض فوجی بھی ممکنہ مداخلت کے لئے ترکی میں تعینات کئے ہیں اور اب شام کی سائبرآرمی نے قطر، سعودی عرب اور ترکی کے بعض اداروں میں نفوذ کرکے بعض خفیہ دستاویزات حاصل کی ہیں۔
شامی سائبر آرمی کے ہاتھ لگنے والی ایک دستاویز سے ثابت ہوا ہے کہ قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ حمد بن جاسم نے روس کو یقین دہانی کی کوشش کی ہے کہ اگر وہ بشارالاسد کی حمایت ترک کرے تو شام پر مسلط ہونے والے تمام دہشت گرد ٹولے شام کی طرطوس نامی بندرگاہ میں روس کے بحری فوجی اڈے کی حمایت کریں گے اور دوسری دستاویز کے مطابق ـ جس کا تعلق حمد بن جاسم اور مصری صدر محمد مرسی کی ملاقات سے ہے ـ حمد بن جاسم نے مرسی سے کہا ہے کہ انھوں نے بشار الاسد کی حمایت ختم کرانے کے لئے روس سے رابطے کئے ہیں اور شام میں برسرپیکار بقول ان کے "فری سیرین آرمی” نے بھی روسی بحری اڈے کے تحفظ کے حوالے سے بعض ضمانتیں دی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق شام کی سائبر آرمی نے سعودی عرب، قطر اور ترکی کے حساس اداروں اور وزارت ہائے خارجہ کی ہزاروں دستاویزات حاصل کی ہیں جن میں سے صرف دو کو شائع کیا گیا ہے جن کا تعلق قطری وزارت خارجہ سے ہے۔
ایک دستاویز میں ترک وزیر خارجہ نے قطری وزیر خارجہ سے کہا ہے کہ صدر بشار الاسد کو 2014 سے پہلے ہی برطرف ہونا چاہئے ورنہ وہ ان کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں کو نیست و نابود کریں گے۔

12:44 شام اپریل 11, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔