شام کے تعلق سے ترکي ميں حکومت کے موقف کے خلاف مظاہرے

ترکي کے عوام نے ايک بار پھر شام کے خلاف وزيراعظم رجب طيب اردوغان کي حکومت کي مخاصمانہ پاليسيوں کي مخالفت ميں مظاہرے کئے ہيں –
موصولہ رپورٹوں کے مطابق ترکي کے عوام اس بات پر زور دے رہے ہيں کہ ترکي کو مغربي ملکوں اور وہابي عناصر کا آلہ کار بن کر ہمسايہ ملکوں کے خلاف کاروئيوں کا مرکز نہيں بننا چاہيے-اتوار کي شام ترکي کے شہر انطاکيہ ميں شام کے بارے ميں اردوغان حکومت کي معاندانہ پاليسيوں کے خلاف عوام نے زبردست احتجاجي مظاہرہ کيا اور شام کي حکومت اور عوام سے يک جہتي کا اعلان کيا
انطاکيہ کے بلديہ يشل پنار کے ميئر نے مظا ہرين سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ليبيااور افغانستان سے مسلح عناصر، شام کے خلاف لڑنے کے لئے آرہے ہيں اور ترکي انکي حمايت کر رہا ہے-
رپورٹ کے مطابق ترکي کي ليبر پارٹي نے اس مظاہرے کي حمايت کي تھي اور اس ميں بڑي تعداد ميں اراکين پارليمنٹ اور ملک کي سياسي و ادبي شخصيات نے شرکت کي -مظاہرين نے سامراجي سازش کے مقابلے ميں مزاحمت پر زور ديتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کيا کہ شام کے خلاف مغرب کي پاليسيوں کي پيروي بند کي جائے –
مظاہرين نے اسي کے ساتھ عنقرہ اور دمشق کے درميان پرامن تعلقات کے تحفظ اور ترکي سے دراندازي کرکے شام ميں دہشتگردانہ کاروائياں انجام دينے والے مسلح افراد کے فوري اخراج کا مطالبہ کيا –
ترکي کي عوامي جمہوري پارٹي کے رہنما حسن اوگ کون نے کہا کہ شام کے بارے ميں وزيراعظم رجب طيب اردوغان کي پاليسياں انتہائي خطرناک ہيں اور انہوں نے ملک کو انتہائي سنگين خطرات سے دوچار کرديا ہے- انہوں نے شام کے پناہ گزينوں کے کيمپوں کو دہشتگردوں کے ٹريننگ کے مراکز قرار ديا اور انہيں فوري طور پر بند کرنے کا مطالبہ کيا-
ترکي کي سوشلسٹ پارٹي کے عہديدار کمال اوکويان نے کہا کہ وزيراعظم اردوغان کے پاس ايسي کوئي توجيہ نہيں ہے کہ وہ ملک کي سرحدوں کے اندر شام کے خلاف لڑنے والے مسلح افراد کے لئے کيمپ قائم کريں اور انہيں شام بھيجيں – انہوں نے کہا کہ خطے کي صورت حال دھماکہ خيز ہوگئي ہے اور عوام کو اس بات کا احساس ہونا چاہيے کا ان کے مستقبل کو داؤ پرلگاديا گيا ہے –








