وہابی صہیونیوں کا نیا کارنام شام میں ایک ہی رات میں 114 افراد کا قتل عام

28 مئی, 2012 09:59

sham shia killingرپورٹ کے مطابق، شام کے خلاف وہابی صہیونی سازش جاری ہے اورامریکہ، اسرائیل، فرانس، آل سعود اور قطر کے حکمران خاندان "آل الثانی” کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے ایک بار پھر انسانیت سوز دہشت گردانہ کاروائی میں 114 افراد کو شہید کردیا ہے۔
ــ سلفیوں کے ہاتھوں 32 بچوں سمیت 114 شامی باشندے شہید
سلفی دہشت گردوں نے شام کی حکومت کو بدنام کرنے کے لئے ایسے علاقے میں عورتوں اور بچوں سمیت 114 افراد کوبے دردی سے قتل کیا جہاں اقوام متحدہ کے ساتھ شام کے دوطرفہ مفاہمت نامے کی بنیاد پر شامی فورسز موجود نہيں ہیں۔
حمص صوبے کے شہر "سہل الحولہ” کے عوام نے کہا: رات کو سلفی اور وہابی دہشت گرد علاقے میں ظاہر ہونا شروع ہوئے اور انھوں نے کئی نوجوانوں کو ہتھیاروں کے زور سے اپنے ساتھ ملالیا اور ان سے کہا کہ وہ شامی فوجیوں کے خلاف کاروائی کرنا چاہتے ہیں جبکہ اس علاقے میں ایک بھی شامی فوجی موجود نہيں تھا چنانچہ انھوں نے مختلف گلیوں محلوں میں حملے کرکے 114 افراد کو شہید کردیا جن میں عورتیں اور بچے بھے شام تھے۔ اس قتل عام کے دوران کئی خاندانوں کے تمام افراد قتل ہوئے اور العالم سے گفتگو کرتے ہوئے ایک باپردہ خاتون نے کہا کہ سلفی دہشت گردوں نے ان کے خاندان کے آٹھ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق شہداء میں 32 بچے اور متعدد خواتین شامل ہیں اور عینی گواہوں نے کہا کہ سلفی دہشت گردوں نے ان افراد کو قتل کرنے کے بعد کلہاڑیاں اٹھا کر علویوں اور شعیان آل محمد (ص) کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے اکثر شہداء کے سر تن سے جدا کردیئے۔

ادھر سرکاری خبررساں ایجنسی نے اعلان کیا کہ دہشت گردوں نے سہل الحولہ میں شامی باشندوں کے گھروں کو بھی نذر آتش کیا ہے۔
اس ایجنسی نے بتایا کہ سلفیوں نے سہل الحولہ کے سرکاری اسپتال کو بھی نذر آتش کیا ہے۔

دیکھئے:

شام: سہل الحولہ میں دہشت گردوں نے 114 افراد کو قتل کردیا ہے(باتصویر+18)

ــ شام کے سلفی دہشت گردوں کے قطری حامی کے نام کا انکشاف
ایک فرانسیسی روزنامے نے قطر کے اس سرمایہ دار کے نام کا انکشاف کیا ہے جو شام میں مسلح دہشت گرد ٹولوں کو مالی اور فوجی امداد فراہم کررہا ہے اور اس امداد کو "انسانی امداد” کا نام دے رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فرانسیسی روزنامے لو فیگارو (Le Figaro) نے اپنی رپورٹ کے ضمن میں لبنان کے شمالی شہر "طرابلس” کے راستے شام میں القاعدہ اور سلفی دہشت گرد ٹولوں کے لئے افرادی اور مالی و فوجی امداد کی رسد کے حوالے سے اہم انکشافات کئے ہیں۔
اس روزنامے نے انکشاف کیا کہ شام میں حکومت کے خلاف برسر پیکار مسلح دہشت گرد گروپوں کے پانچ اراکین فرانسیسی باشندے ہیں جو فرانس سے بیروت آئے اور وہاں سے شمالی شہر طرابلس چلے گئے لیکن لبنان کی ملٹری انٹیلی جنس نے ان کا سراغ لگایا اور انہیں گرفتار کرکے فرانسیسی سفارتخانے کے حوالے کیا اور فرانسیسی سفارتخانے نے انہیں فرانس لوٹا دیا۔
فرانسیسی روزنامے نے کہا: حال ہی میں شامی فوج نے ان میں سے متعدد مسلح دہشت گردوں کو ہلہک کردیا اور شامی فوج نے اعلان کیا کہ ہلاک ہونے والے بیرونی دہشت گردوں میں تین تیونس، اردن اور مصر کے باشندے تھے جبکہ تین دوسرے فرانس، آسٹریا اور برطانیہ کے باشندے تھے جو باباعمرو نامی شہر میں سرکاری کاروائی کے دوران ہلاک ہوگئے ہیں۔
لو فیگارو نے لکھا کہ شامی حکومت کے خلاف برسرپیکار گروپوں میں ایک گروپ کا تعلق لیبیا سے ہے جس کی مالی اور فوجی حمایت قطر کی حکومت کررہی ہے اور قطر کے حمایت یافتہ لیبیائی دہشت گرد شامی حکومت کے خلاف لڑنے والے مسلح گروپوں میں سب سے بڑے گروپ کو تشکیل دے رہے ہیں۔ ان افراد کو "لیبیائی رضاکاروں” کا نام دیا گیا ہے جن کے ساتھ بعض لبنانی، کویتی، سعودی اور "پاکستانی” دہشت گرد بھی حکومت شام کے خلاف لڑ رہے ہیں اور تھوڑی سی تعداد الجزائریوں کی ہے جو ترکی کے ایک سرحدی گاؤں میں تعینات ہیں۔
فرانسیسی روزنامے نے لکھا ہے کہ بعض عراقی مسلح عناصر نے بھی شام میں داخل ہوکر حکومت کے خلاف لڑنے کی کوشش کی لیکن شامی قبائل نے ان کا تعاقب کیا اور انہیں شام میں نہیں گھسنے دیا۔
لوفیگارو نے انکشاف کیا ہے کہ قطری سرمایہ دار "عبدالرحمن النعیمی” سمیت علاقے کے کئی عرب سرمایہ دار "انسانی امداد” کے بہانے طرابلس میں تعینات شام مخالف مسلح گروہوں کی پشت پناہی کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ شام میں ایک دہشت گرد گروپ "حمد بن جبر آل ثانی گروپ” کے نام سے دہشت گردی کررہا ہے اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ قطر ان گروپوں کی مدد کررہا ہے لیکن ایسے قطری شخص کا نام پہلی بار سامنے آرہا ہے جو کسی دہشت گرد گروپ کی براہ راست سرپرستی کرتا ہے اور دہشت گردوں کو اجرت دیتا ہے۔
اس روزنامے نے طرابلس میں عین گواہوں کے حوالے سے لکھا: اگر شام میں کوئی شخص بم دھماکہ کرنے میں کامیاب ہوجائے تو اس کے اہل خانہ کو بہت بڑی رقم ادا کی جاتی ہے اور ہر سلفی فرد کو شام کی حکومت کے خلاف جنگ کے لئے ماہانہ 200 امریکی ڈالر ادا کئے جاتے ہیں۔
لوفیگارو نے اس امریکی تشویش کا بھی حوالہ دیا کہ لبنان کے شمالی شہر طرابلس سے لے عراق کے صوبے الانبار تک ایک دہشت گرد تکون کی تشکیل کا خدشہ موجود ہے گوکہ روزنامے نے یہ نہیں لکھا کہ اگر امریکہ کو ایسی کوئی تشویش ہے اور اگر یہ دہشت گرد امریکی مفاد کے خلاف کام کررہے ہیں تو پھر امریکیوں کی طرف سے ان دہشت گردوں کی ہمہ جہت حمایت کا کیا جواز ہے؟

ــ شام میں قتل عام کی کاروائیوں کا انتظام امریکہ کے پاس ہے
ایک شامی مبصر نے الزام لگایا ہے کہ علاقائی اور بین الاقوامی فریق، امریکہ کے زیر قیات شام میں ہونے والی ہلاکتوں کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق شامی تجزیہ نگار "بسام ابو عبداللہ” نے اتوار کے روز العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے زیر سرپرستی دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے والے مسلح گروپ شام کے مسئلے کا پرامن حل نہیں چاہتے بلکہ وہ ملک میں بحران کی کیفیت قائم رکھ کر شام میں بین الاقوامی مداخلت کے لئے راستہ ہموار کرنا چاہتے ہيں۔
انھوں نے کہا: امریکی زیر سرپرستی مسلح گروپ منصوبہ بندی کے تحت ملک میں منظم دہشت گردی کررہے ہيں اور اس طرح وہ بین الاقوامی ناظرین کے مشن کو ناکام بنانا چاہتے ہیں اور یہ وہی اقدام ہے جو اس سے پہلے عرب ناظرین کے مشن کو ناکام بنانے کے لئے انجام پایا۔
یادرہے کہ جب عرب ناظرین کا مشن کامیابی کے مراحل میں داخل ہوا اور معلوم ہوا کہ یہ مشن شامی حکومت کے مفاد میں آگے بڑھ رہا تو قطر اور سعودی عرب نے روڑے اٹکانا شروع کئے اور اپنے زیر سرپرستی دہشت گردوں کے ذریعے شام میں دہشت گردانہ کاروائیوں کو شدت بخشی جس کے نتیجے میں وہ مشن [جو امریکہ اور اسرائیل کے نقصان میں جارہا تھا] شام سے لوٹایا گیا۔
بسام ابو عبداللہ نے کہا کہ روس سے حال ہی میں بین الاقوامی برادری سے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ "یا وہ کوفی عنان کے مشن کو کامیاب بنائیں اور اگر ایسا کرنے کے لئے تیار نہيں ہے تو حکومت شام کی طرف سے پیش کردہ پالیسیوں کے سامنے سرتسلیم خم کریں۔
انھوں نے کہا: مغربی رپورٹوں کے مطابق واشنگٹن واضح طور پر ترکی کے ذریعے شام کے اندر بحران کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے اور مسلح دہشت گرد گروپوں کی مدد و حمایت کررہا ہے اور اس کا منصوبہ ہے کہ شام میں اپنے لئے راستہ کھولنے کے لئے اسی طرح کا قتل عام کروادے جو 1990 کے عشرے میں بلقان کے ممالک میں ہوا۔
ابوعبداللہ نے کہا: حالیہ قتل عام نے ثابت کیا کہ الحولہ کے علاقے میں عوام کو جس درندگی سے قتل کیا گیا ہے وہ روش تکفیری وہابیوں کی ہے اور اس کا شامی معاشرے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ قتل عام درحقیقت ایک منصوبہ بندی شدہ قتل عام تھا جو اقوام متحدہ کے ایلچی کوفی عنان کے دورہ شام کے صرف دو روز قبل انجام پایا جس کے بعد کوفی عنان کو سلامتی کونسل کے سامنے اپنے مشن کی رپورٹ پیش کرنی ہے۔
انھوں نے کہا: دہشت گردی اور درندگی کی یہ کاروائیاں ایسے حال میں ہورہی ہیں کہ بعض ٹی وی چینلز بھی اس قتل عام کو حکومت شام سے نسبت دے رہے ہیں اور بعض مجہول الحال افراد کے انٹرویو کسی تحقیق کے بغیر نشر کئے جارہے ہيں اور من مانے تبصروں سے عرب عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے اور یوں حکومت شام کو ہر سمت سے غیرمنصفانہ یلغار کا سامنا ہے۔
ــ شام: حمص میں شامی عوام کا قتل عام، حکومت شام جرائم پیشہ قاتلوں کا قلع قمع کرے
شام میں "تنظیم المہاجرین” کے سیاسی ونگ کے سربراہ نے کہا کہ صوبہ حمص کے شہری سہل الحولہ میں ہفتہ (26 مئی کو) ہونے والا قتل عام شام دشمن قوتوں کی شرمناک خبث بھری سازش ہے جو انھوں نے اپنے ایجنڈے میں شامل کی ہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق شام میں مہاجرین کی تنظیم کے سیاسی ونگ کے سربراہ "ضرار جمو” نے کہا کہ یہ قتل عام ایسے حال میں انجام پایا ہے کہ اقوام متحدہ کے ایلچی کوفی عنان شام کے دورے پر آرہے ہیں۔
انھوں نے کہا: شام کے دشمن ان حالات میں ٹارگٹ کلنگ کے مرحلے سے گذر کر قتل عام اور نسل کشی کے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا: ان درندوں اور ان انسانیت دشمن جرائم پیش قاتلوں کی بیخ کنی کرنی چاہئے اور حکومت شام کو ان لوگوں سے چھٹکارا پانے کے مرحلے کی جانب بڑھنا چاہئے کیونکہ سیاسی حوالے سے کسی قسم کا جواز موجود نہیں ہے سوائے اس کے کا ان کا قلع قمع کیا جائے۔
انھوں نے ایک منظم سازش کی طرف اشارہ کیا اور الزام لگایا کہ بین الاقوامی برادری [مغرب اور عالمی تنظیمیں] ان خطرناک اور انسانیت دشمن قاتلوں کی حمایت کررہی ہے اور اقوام متحدہ کی طرف سے شام آنے والے ناظرین بھی صرف مقتولین کی تخمینہ لگانے کے کام میں مصروف ہيں اور گویا وہ جاننا چاہتے ہیں کہ قتل ہونے والے حکومت کے مخالفین اور حامیوں کی تعداد کتنی ہے!۔
انھوں نے کہا: کوفی عنان کے منصوبے کو کامیاب بنانے کے لئے ضمانتوں کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ ان کے منصوبے کی تمام شقوں پر حکومت بھی عمل کرے اور مسلح گروپ بھی ان شقوں پر عمل کرے اور یہ منصوبہ یک طرفہ طور پر حکومت شام تک ہی محدود نہ کیا جائے۔
انھوں نے کہا: کوفی عنان کا منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا کیونکہ صرف حکومت شام اس کا خیر مقدم کررہی ہے اور حکومت نے بین الاقوامی نگرانوں کو بھی تمامتر سہولتیں فراہم کی ہیں لیکن بین الاقوامی برادری نے مسلح دہشت گردوں کے جرائم روکنے کے لئے کوئی اقدام نہيں کیا ہے اور انہیں دہشت گردی کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔
انھوں نے کہا: بین الاقوامی برادری حکومت شام کو عنان منصوبے پر عمل کروانے کے درپے ہے لیکن دوسری طرف سے دہشت گردوں کو عرب حکومتوں کی طرف سے امداد فراہم کی جارہی ہے اور ترکی اور لبنان میں شامی حکومت کے مسلح مخالفین کو دہشت گردی کی تربیت دی جارہی ہے۔
ــ حکومت شام: دہشت گردی کے حامی الحولہ کے ہولناک قتل عام کے ذمہ دار ہيں
شامی وزارت خارجہ کے ترجمان "جهاد المقدسي” نے سہل الحولہ کے قتل عام میں شامی افواج کے ملوث ہونے کے دعؤوں کی تردید کرتے ہوئے کہ: شام میں سرگرم عمل دہشت گرد ٹولوں کے عرب اور مغربی حامی شامی عوام کی نسل کشی کے ذمہ دار ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جہاد المقدسی نے اتوار کے روز نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: ہم الحولہ کے علاقے میں شامی عوام کے قتل عام میں شامی افواج کے ملوث ہونے پر مبنی دعؤوں کی سرے سے تردید کرتے ہيں۔
انھوں نے کہا: الحولہ کے علاقے میں عوام کا قتل عام ایک منصوبہ بندی شدہ جرم تھا جس کا ارتکاب مسلح دہشت گردوں نے کیا اور ان دہشت گردوں نے اس سے قبل شامی افواج کے چیک پوسٹوں پر حملہ کیا تھا۔
انھوں نے بعض علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں کی طرف سے اس انسانیت سوز جرم کے حوالے سے حکومت شام پر الزام تراشی کو افسوسناک قرار دیا اور کہا: قتل ہونے والے ہمارے اپنے شہری تھے اور شامی عوام کا خون ہماری حکومت اور فوج کے لئے محترم اور بیش بہاء ہے اور ہماری حکومت اور فوج اپنے عوام کے خون پر سودے بازی کا سوچ بھی نہیں سکتی لیکن جو قوتیں فوجی اقدامات اور دہشت گردی کی کاروائیوں کے ذریعے شام کی تقسیم کی توقع کررہی ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو عوام کے خون پر سودے بازی کررہی ہیں اور مملکت شام کو ویران کرکے اس ملک کے عوام کا قتل عام کررہی ہیں۔
انھوں نے کہا ہر قوت اور ہر ملک جو دہشت گردوں اور مسلح گروپوں کی حمایت کرے شامی عوام کے خون کی ذمہ داری ان ہی پر عائد ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا: شامی معاشرے میں مسلح عناصر اور دہشت گرد ٹولوں کی کوئی حیثیت نہيں ہے۔
المقدسی نے کہا: حکومت شام نے مذاکرات اور بات چیت کی ہر تجویز کا خیر مقدم کیا لیکن مخالف فریق مذاکرات سے مسلسل بھاگتا ہوا نظر آیا۔
المقدسی نے کہا: شام کا بحران اس ملک کو نقصان پہنچا کر حل نہیں ہوگا اور ہم اپنے مسلمہ بین الاقوامی حقوق کی رو سے اپنے عوام اور اپنی سرزمین کا تحفظ کریں گے۔
ــ شام میں موساد کے "ہاتھی دانت” کا انکشاف + جاسوسوں کے نام
شام میں بدنام زمانہ صہیونی ایجنسی موساد کے جاسوسی نیٹ ورک کے پکڑے جانے سے واضح ہوا ہے کہ عالم اسلام کی قیادت کے دعویدار آل سعود اور آل ثانی کے یہودیوں کے ساتھ کتنے مشترکہ مفادات اور مشترکہ اہداف ہیں جن کے لئے وہ مل کر شامی حکومت کے خلاف سازشیں کررہے ہيں۔/ یہ بات خاص طور پر ان لوگوں کے لمحہ فکریہ ہے کہ تاریخ اور حالات حاضرہ کے تمام حقائق کے باوجود وہ آل سعود کو یہودی ریاست کا دشمن سمجھ رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق شام اور لبنان کی سیکورٹی ایجنسیوں نے آل صہیون سے وابستہ ایک جاسوسی نیٹ ورک کو پکڑ لیا ہے جس کو ہاتھی دانت نیٹ ورک کا نام دیا گیا تھا اور جو لبنان اور حتی کہ شام کے اندر، حکومت شام کے خلاف سرگرم عمل تھا۔ اس نیٹ ورک کے تمام سرکردہ افراد گرفتار کئے گئے ہيں
شام کی خفیہ ایجنسیوں نے لبنان کی خفیہ ایجنسیوں کے تعاون سے بیرون ملک کاروائی کے دوران موساد سے وابستہ ایک نیٹ ورک کا خاتمہ کیا ہے۔
ان اطلاعات کے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نیٹ ورک 24 مارچ 2012 کو پکڑا گیا تھا لیکن سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اس اہم کاروائی کو خفیہ رکھا گیا تھا۔
فارس خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یہ کاروائی شام اور لبنان کی خفیہ ایجنسی اور شام کی مزاحمت تنظیم کے نوجوانوں کے تعاون سے لبناں میں عمل میں لائی گئی۔
اطلاعات کے مطابق یہ نیٹ ورک مختلف قومیتوں کے بعض خائن اور غدار عناصر پر مشتمل تھا جو موساد اور یہودی ریاست کے تعاون سے حکومت شام کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا۔
شامی ویب نیوز بیس "دام پریس” نے اس سلسلے میں مزید اطلاعات شائع کرنے سے معذرت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ویب بیس فی الحال اس سلسلے میں مزید اطلاعات شائع کرنے سے معذور ہے کیونکہ اس سلسلے میں تحقیق و تفتیش کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
اس شامی نیوز ویب بیس نے اس نیٹ ورک میں سرگرم عمل بعض افراد کے نام بھی شائع کئے ہيں لیکن ان کی قومیت ظاہر نہيں کی۔ شائع شدہ افراد میں مندرجہ ذیل نام شامل ہيں:
٭٭ امریکی سفارتخانے کا کوارڈی نیٹر "عوکر ڈانیِل”
٭٭ حجاز اور قطر سے شام ـ لبنان مشترکہ سرحدی پٹی تک رقوم کی منتقلی کا ذمہ دار "وسیم علی کنعان”۔
٭٭ معلومات اکٹھی کرنے کا ذمہ دار "محمد حسین برهان”۔
٭٭ حلب شہر سے معلوم اکٹھی کرنے کا ذمہ دار "راتب احمد حاج بکور”،
٭٭ فرانس ـ اسرائیل تعلقات عامہ کا ذمہ دار "پیر کرمان”۔
اس نیٹ ورک میں متعدد دوسرے افراد میں شامل ہیں جن کے ناموں پر "شام لبنان مشترکہ محاذ مزاحمت کے نوجوان کام کررہے ہيں۔

10:08 شام اپریل 9, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔