آل خلیفہ اور آل سعود نے بحرین میں حمامِ خون گرم کرررکھا ہے

پیٹرک کاک برن نے روزنامہ انڈیپنڈنٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں عوام کے خلاف آل خلیفی حکومت کے جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: آل خلیفہ نے معترضین کو کچلنے کے لئے حمام خون گرم کررکھا ہےابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے تحریر کیا ہے کہ آل خلیفی حکومت نے اپنے عوام کے خلاف جنگ شروع کررکھی ہے اور وہ حمامِ خون میں شیعیان بحرین کو غرق کردینا چاہتی ہے؛ اس حکومت نے عوام کو کچلنے کے لئے آزار و اذیت، ٹارچر اور قتل عام جیسی تشدد آمیز ترین روشوں کا سہارا لیا ہے اور اس نے نقاب پوش گماشتے سڑکوں پر تعینات کرکے عوام کو خوفزدہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
پیٹرک نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا ہے: آل خلیفہ حکومت عوام کے درمیان فرقہ وارانہ تفرقہ ڈالنے کی اپنی کوششوں کو بھی خفیہ رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی اور اعلانیہ طور پر فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کررہی ہے اور حتی تاریخی حیثییت رکھنے والی مساجد اور حسینیات کا انہدام آل خلیفہ کی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔
انھوں نے امریکہ کی پر اسرار خاموشی میں آل خلیفہ کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی اور مخالفین کی سرکوبی جیسے جارحانہ اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: آل خلیفہ حکومت نرسوں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹروں کو زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی پاداش میں، زد و کوب کرتی ہے اور انہیں گرفتار کرتی ہے اور وہ اساتذہ اور جامعات اور اسکولوں کے طلبہ کو گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بناتی ہے، مزدوروں اور سرکاری ملازمین کو برخاست کرتی ہے اور اس نے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کا وظیفہ تک منقطع کرلیا ہے۔
انھوں نے مزید لکھا ہے: آل خلیفہ حکومت کے ظالمانہ اقدامات سے اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ عوام شدت کے ساتھ اس حکومت سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ اس حکومت نے بحرین کے اکثریتی عوام کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے۔








