عراق میں فوجی آپریشن جاری، صوبہ دیالہ میں دسیوں دھشتگرد ہلاک

عراق کے پہاڑی علاقے اور مشرقی صوبے دیالہ میں واقع شہر حمرین میں آپریشن کے دوران دسیوں داعشی دہشتگرد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس صوبے کے پولیس چیف جمیل الشمری نے کہا ہےکہ پولیس نے فضائيہ کی مدد سے شمالی مشرقی بعقوبہ میں داعش کے پچاس تکفیری عناصر کو ہلاک کردیا جبکہ ان کی گاڑیاں بھی تباہ ہوگئي ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حمرین کے علاقے کو داعشی عناصر سے پاک کرنے تک آپریشن جاری رہے گا۔ دوسری طرف اطلاع ہے کہ داعش نے سیکڑوں کی تعداد میں اپنے غیر عراقی عناصر کو شام سے عراق بلوالیا ہے۔ ان تکفیریوں کاتعلق مختلف عرب ملکوں سے ہے۔
سومریہ نیوز کے مطابق داعش کے نام سے تکفیری دہشتگرد جن کا تعلق عرب ملکوں سے ہے ہفتے اور اتوار کی درمیاں رات کو شام سے موصل پہنچے ہیں۔ ادھر عراقی فوج کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں کہا ہےکہ داعش کے تکفیری دہشتگردوں کے ہاتھوں موصل میں انبیاء کرام حضرت یونس، حضرت جرجیس اور حضرت شیث علیھم السلام کے مراقد کے انہدام کے بعد اس شہر کے لوگوں نے داعش کا مقابلہ کرنے کےلئے مسلحانہ جدوجہد شروع کردی ہے اور داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں عوامی تحریک شروع ہی ہونے والی ہے۔
واضح رہے وہابیت کے حمایت یافتہ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش نے شام اور عراق میں دسیوں مقدس مقامات جن میں انبیاء و اولیاء کرام اور صحابہ کی قبور مطہرہ شامل منہدم کردی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق داعش کے درندوں نے آج موصل میں مینار الحدبا نامی ایک تاریخی مقام بھی منہدم کردیا ہے جو نو سو سال پرانا تھا۔








