آیت اللہ سیستانی: جہاد کفائی کا فتویٰ تمام عراقی باشندوں کو شامل ہے

جہان تشیع کے مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی نے گزشتہ روز بروز جمعہ کو اس بات پر تاکید کی ہے کہ ان کی طرف سے جہاد کفائی کے سلسلے میں دیا گیا فتویٰ عراق کے تمام باشندوں کو شامل ہے نہ کہ کسی خاص مذہب کے ماننے والوں کے لیے ہے۔
انہوں نے فرمایا کہ یہ فتویٰ اس لیے ہے کہ جو حضرات جنگ میں حصہ لے سکتے ہیں وہ سرکاری فوج کے ساتھ مل جائیں نہ کہ الگ سے فوج تیار کریں۔
آیت اللہ سیستانی کے نمائندے حجۃ الاسلام و المسلمین سید احمد صافی نے کربلا میں نماز جمعہ کے خطبوں کے دوران مرجع عالیقدر سے نقل کرتے ہوئے اعلان کیا: مرجع عظیم الشان کی جانب سے جہاد کفائی کے اعلان کا مقصد تکفیری گروہ داعش کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے ضروری آمادگی حاصل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا: مراجع کا کہنا ہے کہ اگر تمام ملت عراق منسجم اور متحد ہو کر تکفیری گروہ داعش کا مقابلہ نہیں کرے گی اور اسے عراق سے باہر نہیں نکالے گی تو کل پشیمان ہو گی لیکن تب پشیمانی کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
حجۃ الاسلام و المسلمین صافی نے مزید کہا: مراجع کا فتویٰ کسی بھی صورت میں کسی ایک قبیلے یا فرقے کے لیے نہیں ہے اور کسی بھی صورت میں از خود اور غیر قانونی لشکر تیار کرنے کی تائید نہیں کرتا ہے سب کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عراقی فوج کا ساتھ دینا ہو گا اور ان کے ساتھ رہتے ہوئے جہاد کرنا ہو گا۔
انہوں نے آخر میں کہا: مراجع ان لاکھوں افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ان کی دعوت پر لبیک کہی اور جہاد کے لیے اپنے نام اندراج کروا کر میدان جہاد میں روانہ ہو گئے۔








