آیت اللہ العظمی سیستانی کی جانب سے صحابہ کی توہین کی شدید مذمت اور فتوی

11 اکتوبر, 2013 10:53

agha sistaniرپورٹ کے مطابق مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی نے اپنے مقلدین کے ایک استفتاء کا جواب دیتے ہوئے ایک چھوٹے سے گروہ کی جانب سے اصحاب و ازواج رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی توہین کرنے والوں کی شدید مذمت کی اور اس عمل کو اہل بیت رسول(ص) کے اخلاق و سیرت کے منافی قرار دیا۔
یہ فتوی ایسے حال میں جاری ہوا ہے کہ بغداد اور کاظمین میں دہشت گردوں کے حملوں میں سینکڑوں عزاداران امام محمد تقی الجواد (علیہ السلام) شہید او زخمی ہوئے تھے جس کے بعد بغداد کے علاقے "الاعظمیہ” میں چند افراد نے اصحاب و ازواج رسول(ص) کی توہین کی۔
وزیر اعظم نوری المالکی نے اس واقعے کے بعد اصحاب کی توہین کرنے والوں کو جانے پہجانے اور بدنام افراد کے نام سے یاد کیا اور توہین کرنے والے شخص کی گرفتاری کا حکم دیا جس نے شیعیان بغداد و کاظمین کے مجروح جذبات سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہا تھا اور دہشت گردوں کے مقصد کو عملی جامہ پہنا کر شیعہ سنی اختلاف کو ہوا دینا چاہتا تھا۔
قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ عراق میں ہر روز درجنوں شیعیان آل رسول(ص) کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر شہید کیا جارہا ہے لیکن اس کے باوجود شیعہ مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی سیستانی اور عراق کے شیعہ وزیر اعظم نے چند افراد کی طرف سے اہل سنت کے اعتقادات کی توہین پر اتنا فیصلہ کن موقف اپنایا اور وزیر اعظم نے توہین کنندہ کی گرفتاری کا حکم دیا جبکہ دنیائے تسنن کی قیادت کے دعویدار عرب حکمران عراق اور دوسرے ملکوں میں شیعیان آل رسول (ص) کے قتل عام کی نہ صرف کوئی مذمت نہیں کرتے بلکہ بیشتر مواقع پر ان حملوں میں ان کی تحریک و اشتعال انگیزی اور مالی و عسکری امداد بھی نظر آتی ہے اور دنیائے اسلام میں فرقہ واریت کے پیچھے ہمیشہ نہیں تو اکثر مواقع پر، ان کا ہاتھ نظر آتا ہے۔
حال ہی میں بعض ویب سائٹوں پر ثائر الدراجی نامی شخص کی ویڈیو نشر کی گئی ہے جس میں وہ اصحاب نبی(ص) کے خلاف نازیبا الفاظ ادا کرتا ہے اور بعض افراد اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ نوری المالک نے ثائر الدراجی کی گرفتاری کے احکامات جاری کئے ہیں۔
عراق میں سرکردہ شیعہ علماء اورعمائدین نے فوری طور پر اس اقدام کی مذمت کی اور صدر دھڑے کے سربراہ اور شیعہ عالم دین مقتدی صدر نے بھی اس مذموم اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بعض کرائے کے ایجنٹوں نے ملک میں فرقہ وارانہ فتنہ انگیزي کی غرض سے انجام دیا ہے۔
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے ثائر الدراجی نامہ فتنہ انگیز شخص کی گرفتاری کے احکامات جاری کرتے ہوئے بعض معلوم الحال لوگوں کی طرف سے اصحاب رسول(ص) کی توہین کی شدید الفاظ میں مذمتی کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام عراق میں فتنہ انگیزی کی غرض سے ایک مجرمانہ منظرنامے کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے عمل میں لایا گیا ہے اور اس مجرمانہ منظرنامے کا مقصد ملک میں فتنہ انگیزي اور مقدسات کی توہین ہے۔
نوری المالکی نے کہا ہے کہ حال ہی میں بعض سائٹوں پر ثائر الدراجی نامی شخص کی ویڈیوز نشر کی گئی ہیں جن میں وہ اصحاب رسول (ص) کے بارے میں نازیبا الفاظ زبان پر لاتا ہے چنانچہ اس شخص پر مقدمہ چلانے کے لئے اس کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔
ذیل میں آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی سے ہونے والے استفتاء اور ان کے جواب کا عکس ملاحظہ ہو:

6:56 صبح جون 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔