عراق ایک ماں کی المناک کہانی

عراق میں دھماکوں اور کئی شہریوں کے جاں بحق ہو جانے کی خبر ایک عام سی خبر میں تبدیل تو ہو کر رہ گئی ہے لیکن یہ دہشتگردی کے واقعات کئی دلوں میں انمٹ نقش چھوڑ گئے ہیں۔ یہ ایک ایسی ہی ماں کی روداد ہے جو ہر روز کی طرح 26 ستمبر کو بھی اپنے بیٹوں کے لئے ناشتہ بنانے میں مصروف تھیں۔ 66 سالہ ام حسن جو پیروں کے درد میں مبتلا ہیں اپنے بیٹوں کو دروازے تک خدا حافظ کہنے نہیں آسکیں اور ناشتے کے بعد انکے بیٹے اسکو خدا حافظ کہہ کر گھر سے باہر نکل گئے دن بھر کام کاج میں مصروف رہنے کے بعد وہ سب کے سب معمول کے مطابق شام کو گھر واپس آگئے۔ لیکن ان میں سے تین بیٹے دوبارہ تیار ہو کر محلے میں ایک جنازے میں شرکت کے لئے گھر سے نکل گئے۔ ابھی آدھا گھنٹہ ہی گذرا تھا کہ خوفناک دھماکے کی آواز سنائی دی۔ اس آواز نے جہاں در و بام ہلا کر رکھ دیئے وہیں ام حسن کا دل بھی دہل کر رہ گیا۔ ابھی وہ سنبھل بھی نہ پائی تھیں کہ گھر میں موجود چاروں بیٹے ننگے پاوں باہر کی جانب بھاگے تاکہ باہر کی خبر لے سکیں۔
ہر طرف سے اٹھنے والی آہ و بکا کی صداوں کی وجہ سے اب ام حسن کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی اور وہ اپنے بیٹوں کی سلامتی کی خبر کے لئے بے چین تھیں۔ وہ بھی انتہائی پریشانی میں گھر سے باہر نکل آئیں اور دھماکے کی جگہ کی جانب بڑھنے لگیں مگر اہل محلہ نے ان کو سمجھا بجھا کر واپس گھر بھیج دیا۔ بوڑھی ماں گھر کے دروازے پر ہی پہنچی تھی کہ ایک اور دھماکے کی آواز سے علاقہ گونج اٹھا۔ ام حسن کو نہیں معلوم تھا کے ان کے بیٹے اپنی موت کا استقبال کرنے گھر سے باہر نکلے ہیں کیونکہ وہ سب کے سب ان دو بم دھماکوں میں شہید ہو گئے۔ دھماکے اتنے شدید تھے کہ ان ساتوں کے جنازے مل نہیں پائے۔
آج یہ بوڑھی ماں شدت غم سے اپنے حواس کھو بیٹھی ہے اور اپنے ایک رشتے دار کے گھر میں اپنی لٹی پٹی زندگی گذار رہی ہے۔ عراق میں جاری دہشتگردی کا ایک شکار جس نے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی چیز اپنے جگر کے ٹکڑے کھو دیئے۔
عراق میں مسلمانوں کا قتل عام، دہشتگردی کے واقعات اور انسانیت سوز جرائم ابھی بھی جاری ہیں اور دور دور تک اس دہشتگردی کے تھمنے کی کوئی امید بھی نظر نہیں آتی۔ صرف ستمبر کے مہینے میں 200 افراد اس بربریت کا نشانہ بنے ہیں اور نہ جانے کب تک کتنی ام حسن جیسی ماوں کے لعل و گہر اس دہشتگردی کی قربانی بنیں گے یہ بات عالم اسلام کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
…..








