عراق میں صیہونی اثرونفوذ

عراق میں صیہونی حکومت کااثرونفوذ اور اوراس کےانٹلیجنس اداروں سےوابستہ کمپنیوں کی سرگرمیاں روزبروز بڑھتی جارہی ہیں ۔اوراس سےعراق کےاندرتشویش پیداہوگئي ہے۔صیہونی حکام نےدوہزار تین میں صدام کی آمریت کےخاتمےاور عراق پرامریکہ کےقبضےکےبعد سے، عراق کواپنی سرگرمیوں کا مرکزبنالیا اور اس وقت سے سیکڑوں صیہونی کمپنیاں، عراق میں مختلف صنعتی اور تجارتی شعبوں میں فعالیت کررہی ہيں۔ قابل غور نکتہ یہ ہےکہ یہ اسرائیلی کمپنیاں مختلف عربی وانگریزی ناموں سے عراق میں سرگرم عمل ہیں۔ اقتصادی سرگرمیوں کےعلاوہ وہ دوہزارتین سےسیکڑوں صیہونی یہودی، ناحوس، یونس، دانیال، حزقیل اوردوسرےانبیائےبنی اسرائیل کےمقبروں کی زيارت کےبہانےعراق کاسفرکرتےہیں اوربعض صیہونی سرمایہ کارشمالی عراق کےعلاقوں پرتاریخی ارضی دعوؤں کےذریعےاس علاقےکی زمینیں خریدتےہيں۔
ابھی حال ہی ميں امریکی صحافی وین میڈسین نےشمالی عراق میں صیہونیوں کی جانب سے کمپنیاں قائم کرنےکےمنصوبے کی خبردی ہے۔ صیہونی حکام ، نیل سےفرات تک گریٹراسرائیل کی آيئڈیالوجی کےتحت،عراق میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانےکی کوشش میں ہيں تاکہ خود کوعلاقائی تنہائی سے نکالنےکےساتھ ہی عراق میں صیہونی مصنوعات کےلئےمنڈی بھی حاصل کرسکیں۔
یہ ایسےعالم میں ہےکہ بغداد حکام ، عراق میں بدامنی پیداکرنے میں صیہونی حکومت کےکردار اوراس کی سازشوں کوسمجھتےہوئے اس حکومت کےخلاف ٹھوس اقدامات کرنےپرتاکیدکرتےہيں۔ عراقی حکام نےصیہونی حکام اورعراقی کردستان کےحکام کےدرمیان ہرطرح کےرابطے اوراس کےمنفی نتائج کےسلسلےمیں بھی خبردارکیاہے۔








