ایران

مداخلت پسند طاقتیں علاقے کے ملکوں کی ترقی اور خود مختاری کے راستے میں رکاوٹ

ali khamnai5رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی طرح ملک کے استقلال کی حفاظت کے سلسلے میں امریکہ کے بارے میں حضرت امام خمینی (رہ) کے خطوط اور انقلاب اسلامی کے گرانقدر اقدار اور اصولوں پر صریح اور واضح اعتماد اور توجہ پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی نظام کے اقتدار، استحکام اور باقی رہنے کا اصلی راز یہ ہے کہ انقلاب اسلامی عوام کے ارادوں ، محبتوں اور ان کے ایمان پر استوار ہے اور ایرانی قوم اس سال 22 بہمن کی ریلیوں کے موقع پر انقلاب کے نعروں کو مضبوط اور مستحکم انداز میں لگائےگي اور ایک بار پھر دنیا کے سامنے قومی اقتدار اور استقامت کا شاندار مظاہرہ کرےگی۔
یہ ملاقات19 بہمن 1357 ہجری شمسی میں فضائیہ کے اہلکاروں کی طرف سے حضرت امام خمینی (رہ) کے ساتھ تاریخی عہد کی مناسبت سے منعقد ہوئی ، رہبر معظم انقلاب اسلامی اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف نے اس تاریخی واقعہ کو مختلف پہلوؤں کا حامل قراردیتے ہوئے فرمایا: انیس بہمن کے واقعہ کا ایک اہم پہلو فضائیہ اور پھر پوری فوج میں استقلال کا احساس پیدا کرنا تھا کیونکہ یہی جذبہ اندرونی صلاحیتوں پر اعتماد اور خود اعتمادی کے جذبہ میں تبدیل ہوگیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے استقلال کے مفہوم کی تشریح میں نئےاستعمار کے جدید طریقوں اور دیگر ممالک میں براہ راست مداخلت کے بجائے اپنے عناصر سے استفادہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جدید استعمار کے ساتھ مقابلے کے لئے ڈکٹیٹر اور ظالم حکمرانوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے علاوہ ان کے غیر ملکی اور بیرونی حامیوں کے ساتھ مقابلہ کرنا بھی بہت ضروری ہے کیونکہ ان کے بیرونی حامیوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے بغیر آپ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ پائيں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں بعض علاقائي انقلابات کی تقدیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: وہی انقلاب کامیاب ہوگا جو موجودہ ڈکٹیٹر کا ساتھ دینے والی پس پردہ طاقت کو پہچان لےگا اور ڈکٹیٹر کی حمایت کرنے والی اس استعماری طاقت کے ساتھ سازشی مذاکرات کرنے کے بجائے اس کا مقابلہ کرے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسی بنیاد پر حضرت امام خمینی (رہ) نے جوانوں کے توسط تہران میں امریکہ کے سابق سفارتخانہ پر قبضہ کو پہلے انقلاب سے بڑا انقلاب قراردیا کیونکہ اس حرکت سے معلوم ہوگیا کہ ایرانی قوم نے شاہ ایران کی طاغوتی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد شاہ کی حامی استعماری طاقت کو بھی پہچان کر اس کے ساتھ مقابلہ کرنا شروع کردیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: تسلط پسند طاقتوں کی شناخت اور ان کے ساتھ مقابلہ در حقیقت واقعی اور حقیقی استقلال ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: غیر ملکی تسلط پسند طاقتیں ہر ملک کے استقلال سے خوفزدہ ہوتی ہیں لہذا دیگر قوموں اور دوسرے ممالک کے حکام سے استقلال کی حس کو کمزور اور سلب کرنے کی ان کی ہمیشہ کوشش رہتی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے استقلال کو پیشرفت کے منافی قراردینے کو استعماری طاقتوں کا دلچسپ فریب قراردیتے ہوئے فرمایا: تسلط پسند اور استعماری طاقتوں کے اندرونی عوامل اور تبلیغاتی ادارے یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ قومی تشخص اور مفادات پر اعتماد پیشرفت کے منافی ہے لہذا اگر کوئي ملک پیشرفت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے استقلال کی طرف رغبت کم کردینی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button