فلسطین کے حق میں آواز اٹھانا صرف سیاسی عمل نہیں بلکہ عبادت ہے، علامہ باقر زیدی
شیعیت نیوز : مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ سید باقر عباس زیدی نے اسرائیل و فلسطین تنازعے پر حالیہ جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل وہ ملک ہے جس نے دنیا میں سب سے زیادہ بین الاقوامی معاہدوں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزیاں کی ہیں، اس کی تاریخ دھوکے، مکاری اور جبر سے بھری پڑی ہے، اس لیے موجودہ جنگ بندی معاہدہ بھی اسرائیل کی ایک سیاسی چال اور وقتی حربہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا ہے۔
پیر 2: انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں بطورِ ضامن شامل ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل کو معاہدے کی پاسداری پر مجبور کریں اور فلسطینی عوام کے بنیادی انسانی و قومی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں : گلگت بلتستان میں عوامی مرضی کے بغیر حکومت نہیں بنے گی، اپوزیشن لیڈر کاظم میثم
پیر 3: علامہ باقر عباس زیدی نے واضح کیا کہ جنگ بندی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم فلسطین کے دیرینہ مسئلے کو فراموش کر دیں یا اپنی جدوجہد کو روک دیں؛ فلسطین کی آزادی اور بیتِ المقدس کا تحفظ امتِ مسلمہ کے ایمان، غیرت اور وقار کا مسئلہ ہے۔
پیر 4: ان کا کہنا تھا کہ جب تک فلسطینی عوام کو ان کا جائز حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست نہیں ملتی، اس جدوجہد کو جاری رکھنا ہر باشعور مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ اسرائیل کی ریاست ظلم، نسل کشی اور بربریت کی علامت بن چکی ہے — دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا وقت آ گیا ہے۔
پیر 5: انہوں نے کہا کہ جو قوتیں انسانی حقوق کی علمبردار بنتی ہیں، انہیں چاہیئے کہ وہ غزہ اور فلسطین کے مظلوم عوام کے زخموں پر مرہم رکھیں، نہ کہ ظالم کو مزید سہولتیں فراہم کریں۔
پیر 6: علامہ باقر عباس زیدی نے اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین کے مستقل اور منصفانہ حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے حق میں آواز اٹھانا صرف سیاسی عمل نہیں بلکہ عبادت اور ایمان کا تقاضا ہے، امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ متحد ہو کر مظلوموں کی حمایت میں اپنا کردار ادا کرے اور ظالم طاقتوں کے خلاف پرامن مگر مضبوط مزاحمتی موقف برقرار رکھے۔







